خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 619
خطبات طاہر جلدم 619 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۸۵ء موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ اطلاعیں دے رہا ہوگا کہ کس طرح آپ کی جماعت جس کے متعلق آپ حسرت رکھتے تھے کہ کسی طرح میں خام حالت میں نہ چھوڑ جاؤں، وہ اس طرح مالی قربانی کے نئے سے نئے اور بلند تر اور عظیم الشان معیار قائم کرتی چلی جارہی ہے اور نئے سنگ میل رکھ رہی ہے اور یہ چندلوگوں کی بات نہیں رہی یہ سلسلہ عام ہو گیا۔پس ایک طرف جہاں آپ کے مال لوٹنے والے ، آپ کے رزق میں کمی کرنے والے، تکذیب کے ذریعہ اموال کھانے کی دھن میں جو بھی ان کا ظالمانہ سفر ہے اس میں آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ایک عجیب دھن میں ، ایک نئی دھن میں مست خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار مالی قربانیوں کا ایک ایسا سفر کر رہی ہے کہ اس کی کوئی مثال ساری دنیا میں آپ کو کہیں نظر نہیں آئے گی۔میرے گزشتہ خطبہ جمعہ کے نتیجہ میں بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ بے مثل ہے تو عیسائیت بھی تو بے شمار مالی قربانی کر رہی ہے۔اس قربانی کو پھر بے مثل کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اصل واقعہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ سطحی نظر سے ایک جائزہ لے لیتے ہیں ان میں تجزیے کی توفیق نہیں ہوتی۔کسی ملک میں بھی عیسائیت کی مالی قربانی کا جماعت احمدیہ کی مالی قربانی سے موازنہ کر کے دیکھیں تو اتنا نمایاں بنیادی اور امیتازی فرق ہے کہ کسی مشابہت کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔افریقہ ہے جہاں عیسائیوں نے عیسائیت کو فروغ دینے کے لئے ارب ہا ارب روپیہ خرچ کیا ہے مگر جو عیسائی پیدا کئے وہ عیسائیت کے لئے خرچ نہیں کر رہے وہ پیسے کھا کر عیسائی ہور ہے ہیں۔جو نتیجہ پیدا کیا ہے وہ انسانیت کے تقاضوں کے بالکل برعکس نتیجہ پیدا کیا ہے اور تنگی کے پیسے اور انتہائی دکھ کی حالت میں آج کے زمانے میں عیسائیت میں انفاق کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ ایک تو پرانے زمانوں میں حکومتوں میں چرچ کا بہت دخل تھا اور عیسائی چرچ غیر معمولی طور پر دولت مند ہو گیا ہے اور دوسرے ان میں ایسی بے شمار بوڑھی عورتیں مرتی ہیں جن کی اولا د نہیں ہوتی لیکن بے شمار دولت کی ہوتی ہے اور وہ مرتے وقت اپنا پیسہ چر چوں کو دے جاتی ہیں لیکن جہاں تک ان کے عوام الناس کا تعلق ہے نکال کے تو دکھا ئیں۔دس احمدیوں کے مقابل پر