خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 579 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 579

خطبات طاہر جلد ۴ 579 خطبه جمعه ۲۸ جون ۱۹۸۵ء چاہئے مگر قرآن کریم یہ عجیب دعوی کر رہا ہے فرماتا ہے: اَنْ آمَنَّا بِاللہ اللہ پر ہم ایمان لے آئے وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ اور جو پہلے اتارا گیا تھا جس کی تم خود تصدیق کرتے ہو اس کو ماننے پر بھی ہو کو رکبھی تمہیں غصہ آرہا ہے۔ یہ پہلو جو ہے اس کے متعلق میں انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔ اور ایک تیسرا دعوی یہ کیا گیا ہے کہ وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فَسِقُونَ باوجود یکہ تم میں سے اکثر فاسق و فاجر لوگ ہیں ۔ اس کا کیا تعلق اس مضمون سے؟ تعلق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ غصہ اگر تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے آتا ہے اور اگر تمہارا یہ دعوی ہے کہ تم دین میں بگاڑ نہیں دیکھنا چاہتے تو پھر تمہارے عمل بالکل پاک صاف ہونے چاہئیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ اپنے اندر بگاڑ دیکھنا چاہتے ہو اور دوسروں میں بگاڑ نہیں دیکھنا چاہتے ۔ اپنے اعمال گلے سڑے ہیں جھوٹے بھی ہو، بدکار بھی ہو، ہر قسم کی برائیوں میں ملوث ہو، ظالم ہو ، فاسق ، فاجر ، سفاک ہو گئے ہو، کوئی بدی ایسی نہیں جو تم نے اختیار نہ کی ہو ، ساری سوسائٹی تمہاری گندی ہوئی ہے اور اس پر تو تمہیں غصہ نہیں آتا اور اگر کوئی دوسرا بگڑتا ہے تو تم برداشت نہیں کر سکتے تمہیں اس پر غصہ آجاتا ہے ۔ اس لئے فاسق و فاجر کو یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ کسی اور کے بگڑنے پر غصہ کرے۔ پہلے اسے خودکشی کرنی چاہئے دوسرے کو مارنے سے پہلے کیونکہ اگر فسق و فجو رہی اس کو تنگ کر رہا ہے اور اس پر اس کو غصہ آتا ہے تو اپنے فسق و فجور پر کیوں نہیں آرہا، اپنی سوسائٹی کے فسق و فجور پر غصہ کیوں نہیں آ رہا اس لئے حق نہیں رہتا ایسی سوسائٹی کو کسی دوسرے پر اعتراض کرنے کا جو خود گندی ہو چکی ہو۔ بہر حال اس کے بہت سے دلچسپ پہلوا بھی باقی ہیں انشاء اللہ میں آئندہ خطبہ میں بیان کروں گا۔ احباب جماعت کو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں یہ اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ ان کے ایمان کو مزید تقویت پہنچے۔ ہم ایک ایسے دور سے گز رہے ہیں جہاں دلیل عمل کی دنیا میں ڈھلتی چلی جارہی ہے۔ اب کتابوں سے دلیلیں لانے کی اور ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ ہمارے مخالفین اپنی ایک تصویر بنا رہے ہیں اور ساتھ ہماری بھی ایک تصویر بناتے چلے جارہے ہیں ۔ ہم بھی اپنی ایک تصویر بنارہے ہیں ساتھ۔ اب ہماری تصویر کو تو وہ مانیں یا نہ مانیں مگر جو اپنی تصویر خود بنا رہے ہیں اس کو تو ماننا پڑے گا۔ اور جو ہماری تصویر بنار ہے وہ تو انکو ماننی ہی پڑے گی کیونکہ اپنے ہاتھوں سے بنارہے ہیں ۔ یہ وہ دو تصویریں ہیں جن کو قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ محفوظ کر دیا ہے۔