خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 580
خطبات طاہر جلدم 580 خطبہ جمعہ ۱۲۸ جون ۱۹۸۵ء ایک ایک نقش ، ایک ایک خدو خال کی ایسی حیرت انگیز عکاسی کی ہے کہ کوئی باریک سے باریک پہلو بھی چھوڑا نہیں اس میں اور پھر خدا نے اپنی قدرت کی پھونک سے اس تصویر میں جان پیدا کردی ہے۔کبھی کسی مصور نے ایسی زندہ تصویریں نہیں کھینچی تھیں جیسا قرآن کریم تصویر میں کھینچ رہا ہے تاریخ کی اور کبھی کسی مصور کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ زندہ کر دے اپنی بنائی ہوئی تصویروں کو اور عجیب شان کا خدا وہ ہے کہ جو تصویر میں بناتا ہے اور پھر ان کو زندہ کرتا چلا جاتا ہے اور ہر دور میں چلتا پھرتا دکھا دیتا ہے ان تصویروں کو ، ان کو گلیوں میں بسا دیتا ہے، ان کے شہر آباد کر دیا کرتا ہے، ان کی بستیاں بنا کے دیکھا دیتا ہے اور وہ اسی طرح کے اعمال کرتی پھرتی تصویر میں جس طرح مووی ٹا کی (Movie Talkie) ہو۔وہ بھی تو ایک پردہ کی تصویر ہے اس میں جان کوئی نہیں ہوتی۔اللہ کی عجیب شان ہے اور کلام الہی کی عجیب شان ہے کہ تاریخ کی جن تصویروں کو کھینچ رہا ہے اپنی کتاب میں ان کو ہر زمانہ میں زندہ چلتی پھر تی بولتی جاگتی اور محسوس کرتی ہوئی تصویریں بنا کر ہمیں دیکھا دیتا ہے۔پس اب تک جو تصویر میں نے کھینچی ہے قرآن کریم کے مطالعہ کے نتیجہ میں وہ ظاہر ہے اور پھر آپ کو بولنے کی ضرورت نہیں رہتی۔پھر جو بھی سنے گا آپ کا معاند اس کو یہ ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہاں یہ یہ اعتراض ہیں ہمارے احمدیت پر اور ہم وہ کیا کیا حرکتیں کرتے ہیں وہ بھی قرآن کریم بیان فرمائے گا یہاں تک کہ پوری تفصیل کے ساتھ معاندین احمدیت کی عکاسی ہو جائے گی اور پھر جماعت احمدیہ کی جو تصویر بن رہی ہے قرآن کریم نے وہ بھی محفوظ فرما دی ہے انشاء اللہ اس کا بھی آئندہ ذکر کر دوں گا۔خطبہ ثانیہ میں حضور نے فرمایا: آج نماز جمعہ کے بعد دو نماز جنازہ غائب ہونگے ایک مکرم مرزا عطاء الرحمن صاحب جو ان دنوں یہاں آئے ہوئے ہیں انہوں نے اطلاع دی ہے کہ ان کی والدہ محترمہ سردار بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا برکت علی صاحب مرحوم ، حضرت مرزا برکت علی صاحب بھی صحابی تھے اور سردار بیگم صاحبہ بھی صحابہ تھیں۔کل ایک بجے ربوہ میں وفات پاگئیں وفات کے وقت ان کی عمرانا نوے برس تھی۔مرحومہ موصیبہ تھیں ان کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔دوسرے ہمارے ایک نہایت ہی مخلص احمدی جوان ملک رشید احمد صاحب جو پشاور میں ایرفورس میں ملازم تھے اچانک ہارٹ فیلیر (Heart Failure) سے وفات ہوگئی۔مرحوم ملک رشید احمد مکرم ملک سعید احمد