خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 561
خطبات طاہر جلدم 561 خطبه جمعه ۲۱ / جون ۱۹۸۵ء واپس نہیں لے سکتے۔اس لئے خدا کا نشان تھا جو بڑی شان کے ساتھ پورا ہوا اور ہمارے دل اس کے لئے شکر اور حمد سے لبریز ہیں مگر ساتھ میں آپ کو تنبیہ کرتا ہوں کہ دعائیں کریں اور استغفار کریں اور قوم کا برانہ چاہیں۔قوم کی غلطیاں ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہم میں سے بھی تو بے شمار گناہ گار ہیں، ہم کون سا خدا کے سب حکموں پر پوری طرح عمل پیرا ہوتے ہیں ، وہ بڑا رحمن اور رحیم ہے اگر ہم اپنی ذات کے لئے نہیں چاہتے کہ ہمارے گناہوں کو خدا فوراً پکڑلے اور ہماری پردہ دری کر دے اور ہمیں ان گناہوں کے نتیجہ میں ہلاک کرے تو غیروں کیلئے ہم کیوں یہ چاہیں اس لئے کہ انہوں نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے؟ اللہ کا تو بڑا حوصلہ ہے اس کی آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے مکر وہ کام کئے جاتے ہیں اور اس کے باوجود وہ پکڑ میں ڈھیل کرتا چلا جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ مہلت دیتا چلا جاتا ہے۔فرماتا ہے جو اعمال انسانوں نے کئے ہیں دنیا میں یا کر رہے ہیں اگر ہم ان اعمال کی جزا دینے کا فیصلہ کر لیتے تو صرف انسان نہیں زمین سے صفحہ ہستی سے زندگی کا نشان مٹا دیتے کوئی دابہ نہ رہنے دیتے یہاں تو اس اللہ کی محبت کے دعوے اور پھر دل میں یہ تمنا کہ تماشہ ہو جائے۔تماشوں کے لئے آپ نہیں یدا کئے گئے۔پیدا صرف اتنا حق ہے اور یہ ہمارا حق ہر الہی جماعت کا حق رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے نشان مانگیں اور دعا یہ کریں کہ وہ نشان رحمت کے نشان ہوں اور اگر عذاب کے نشان ہی مقدر ہیں مخالفین کے لئے تو اے خدا! اس رنگ میں وہ نشان ظاہر فرما کہ ائمۃ الکفر تو پکڑے جائیں اور عبرت کا نشان بن جائیں لیکن بھاری اکثریت عوام الناس کی جو اس لحاظ سے معصوم ہے کہ کچھ بھی نہیں جانتی جس طرف ان کو ڈال دیا جاتا ہے بھیڑ بکریوں کی طرح چلتے رہتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ اپنے غضب سے بچالے اور اپنی پکڑ سے محفوظ رکھے اور ان کے لئے یہ عبرت کے نشان ہدایت کا موجب بن جائیں۔یہی تمنا ہونی چاہئے یہی میرے دل کی تمنا ہے یہی میں چاہتا ہوں کہ آپ کے دل کی تمنا ہو یہی دعائیں ہیں جو آپ کو جاری رکھنی چاہئیں۔خطبہ ثانیہ میں حضور نے فرمایا: آج جمعہ کے بعد ایک مخلص نوجوان کی نماز جنازہ ہوگی۔یہ نبی سر روڈ میں تھے ہمارے ایک