خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 560
خطبات طاہر جلد۴ 560 خطبه جمعه ۲۱ / جون ۱۹۸۵ء نہیں۔اس لئے جس رستہ پر چل رہے ہیں یہ تو انبیاء کا رستہ ہے انبیاء کے دل لے کر آگے بڑھیں اور خدا سے دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں وہی اسلوب عطا فرمائے جو نبیوں کو خدا تعالیٰ عطا فرماتا ہے کیونکہ ان کی طرف منسوب ہونے والوں کو بھی وہی رنگ اختیار کرنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور قوم کو مجھ اور فہم کی تو فیق عطا فرمائے۔قوم کو تو فیق عطا فرمائے کہ خدا تعالیٰ نے جو ڈھیل کی راہ اختیار کی ہے اور رفتہ رفتہ اپنی پکڑ کو زیادہ سخت کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے اس فیصلہ کو اب سمجھیں آج وقت ہے سمجھنے کا اگر دیر کی تو پھر معاملہ ہاتھ سے جاتا رہے گا۔وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصِ ( ص ) کا وقت آجائے گا اور غور کریں کہ یہ معمولی بات نہیں۔دسمبر کے آخر پر ایک عاجز بندے کو خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ دس جمعتہ المبارک کو کچھ ہونے والا ہے۔کس کے اختیار میں ہے ہم تو ایسے بے اختیار لوگ ہیں کہ پردیس میں نکالے گئے اور کوئی اختیار نہیں ہے۔وہاں کے حالات پر ہمارا کوئی اختیار نہیں، سمندر کی طاقتوں پر کوئی اختیار نہیں ، لوگ ہنسنے اور مذاق اڑانے کے لئے تیار بیٹھے تھے، بے بس تھے اور ایک لمحہ کے لئے میرے دل میں خیال آیا کہ اگر میں اس کا اعلان کر دوں تو بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے بعض دفعہ وہ نشانوں کو ٹال بھی دیتا ہے، جماعت پہلے ہی دکھوں میں مبتلا ہے ، لوگ نہیں گے اور مذاق اڑائیں گے لیکن اس وقت میرے دل نے مجھے بتایا کہ یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے خدا کی مرضی ہے وہ بتائے اور نہ پورا کرے۔انبیاء کی شان کے مطابق غلاموں کو بھی وہی رنگ اختیار کرنے چاہئیں اس لئے وہ اس بات سے نہیں ڈرتے تھے کہ دنیامذاق اڑائے گی یا نہیں اڑائے گی کیا کہے گی ؟ بے پرواہ ہو کر نا ممکن باتیں کہہ دیا کرتے تھے اور بظاہر کوئی امید نظر نہیں آتی تھی۔تو اس وقت مجھے بڑی سخت میرے نفس نے زجر و توبیخ کی کہ یہ ایک لمحہ کے لئے جو وہمہ تمہارے دل میں آیا ہے اگر چہ بظاہر نیکی کے نام پر آیا ہے کہ جماعت کے لئے مشکل نہ پڑے یہ بھی غیر اللہ کی ملونی کا ایک قسم کا شائبہ رکھتا ہے اس لئے استغفار کرو۔چنانچہ میں نے بہت استغفار کی اور پھر بالکل پرواہ نہیں کی کہ کیا ہوتا ہے جو خدا نے مجھے دکھایا امانت کے طور پر میں نے جماعت کے سامنے پیش کر دیا اور جو ظاہر ہوا ہے یہ سمندر کی طرف سے بھی ظاہر ہونا شمال سے بھی ظاہر ہونا جنوب سے بھی سمندر سے بھی اور ہوا سے بھی اور پھر معاندین احمدیت کا اس کو نشان اور تنبیہ قرار دے دینا اب جو چاہیں کر لیں اب یہ قلم سے نکلی ہوئی تحریر میں اور زبان سے نکلے ہوئے کلمات اب