خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 559
خطبات طاہر جلد۴ 559 خطبه جمعه ۲۱ جون ۱۹۸۵ء تکلیف تھی ۔ پچاس میل رہ گیا تھا خدا کو آگے کیا حرج تھا آگے کر دیتے تو پھر ذرا اور ہوتا ۔ ان کو اندازہ نہیں کہ دکھ کیا چیز ہے اور قومی دکھ کیسے کیسے خوفناک نتائج پیدا کرتا ہے اور ان کو پتہ نہیں کہ اللہ رحیم و کریم ہے نشانات ظاہر ہوتے ہیں اور ہمیشہ ہوتے رہیں گے لیکن جن کی خاطر نشان ظاہر ہوتے ہیں ان کا دل نشانات کے ظاہر ہونے سے زیادہ قوم کی ہمدردی میں مبتلا ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طریق تھا جو صحابہ کی روایات سے ثابت ہے کہ بعض موقع پر جب ایک شدید معائد کی ہلاکت کی آپ نے خبر دی اور وہ دن قریب آرہا تھا تو صحابہ ساری ساری رات اٹھ کر روتے اور گریہ زاری کرتے تھے کہ اے خدا یہ نشان ظاہر فرمادے پکڑا جائے ، پکڑا جائے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا کہ میں تو رات بھر یہ دعائیں کرتا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کو بچالے، نہ پکڑا جائے ، نہ پکڑا جائے نہ پکڑا جائے اور ہدایت نصیب ہو جائے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ ع جو خبر دی وحی حق نے اس سے دل بے تاب ہے ( در سیمین صفحہ: ۶۸) کہ مجھے خبر دی ہے میری سچائی کے نشان کے طور پر اور میرا ہی دل بے تاب کر دیا ہے کہ اے خدا یہ کیا ہوگا کیوں لوگ ہلاک ہوں گے؟ کیوں نہ ہو ؟ کس کے غلام تھے؟ محمد عربی اللہ کے جن کے دل پر نظر ڈالتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: عروسه لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء :۴) انکار پر ان کی ہلاکتوں کی خبر میں تمہیں د م دے رہا ہوں ، اے میر۔ ،اے میرے پیارے تیرے جن کے انکار انکاربران پرار دل کا کیا حال دیکھ رہا ہوں تو اس غم میں ہلاک کر رہا ہے خود اپنے آپ کو کہ یہ لوگ انکار کے نتیجہ میں پکڑے نہ جائیں اور ہلاک نہ ہو جائیں۔ تو یہ رستہ جو الہی جماعتوں کا رستہ ہے اس پر چلنے کے لئے اسلوب بھی تو وہی ہونے چاہئیں اطوار بھی تو انبیاء سے ہی سیکھنے چاہئیں۔ پس آپ ان رستوں پر ڈالے گئے ہیں اور آپ نے ان رستوں پر آگے بڑھنا ہے۔ میں آپ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خدا سے نشانات تو مانگیں لیکن اس نیت سے مانگیں کہ اللہ تعالی قوم کے بڑے حصہ کے لئے ہدایت کے سامان پیدا فرمادے اور آپ کے لئے تقویت ایمان کے سامان پیدا فرمادے۔ انتقام اور غضب کے راہ سے نشانوں کا مطالبہ کرنا درست