خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 558

خطبات طاہر جلد۴ 558 خطبه جمعه ۲۱ / جون ۱۹۸۵ء جانتے جب ظاہر ہوگا تو خدا تعالیٰ کی تقدیر خود کھول کر بتا دے گی لیکن جو خطرہ جنوب سے پاکستان کو پیش آنے والا ہے وہ سمندر سے تعلق رکھنے والا خطرہ مجھے معلوم ہوتا ہے کیونکہ سمندر کی ایک غیر معمولی حرکت کے ذریعہ خدا نے اس تجلی کو ظاہر فرمایا جو عموماً اس علاقے میں دیکھی نہیں جاتی جو جغرافیہ کی تاریخ کے لحاظ سے ایک بالکل اجنبی بات تھی اور شمالی سرحد سے ہوائی خطرہ ہے پاکستان کو۔گو آسمانی نشان کے طور پر تو دونوں ہی نشان ظاہر ہونگے لیکن اس کا ظاہری فضا میں بھی آسمان سے تعلق معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ خطرہ ایک ہوائی حملہ کی صورت میں ظاہر ہوا تھا۔پس یہ باتیں تو ہم بہت کھل کر اب دیکھ رہے ہیں کہ یہ مراد تھی اور آنے والے وقت نے یہ بات واضح کر دی کہ یہی رنگ ہے اس پیشگوئی کا اور ابھی یہ ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہوئی ہے۔اس کے بعد میں جماعت کو ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں بہت سے کراچی کے دوستوں نے جو خطوط لکھے ان میں اگر چہ بھاری اکثریت نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اللہ کا بڑا احسان ہے کہ نشان ظاہر تو ہوا مگر اس نے نقصان نہیں کیا اور ہم بہت خوش ہیں کہ لاکھوں جانیں بچ گئیں کیونکہ اندازہ یہ تھا کہ اگر یہ واقعہ پوری طرح خطرہ در پیش آجاتا تو معمولی نقصان نہیں تھا بلکہ لکھوکھا جانیں تلف ہو سکتی تھیں۔پچاس فٹ اونچی سمندر کی لہر تھی جو تقریباً سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کراچی کی طرف بڑھ رہی تھی اور یہ جو اخبارات میں نے دیکھے ہیں ان میں لکھا ہے کہ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ سومیل یا اس سے زائد اس کے پیچھے رہ گئی تھی جب رخ پلٹا ہے، بعض نے لکھا ہے کہ صرف پچاس میل قریب آکر یعنی نصف گھنٹہ کا فرق رہ گیا تھا تو پھر وہ مڑی ہے اور جو تنبیہات کی گئیں ان میں صبح دس بجے کے وقت اس کا پہنچنا بھی بتایا گیا تھا کہ اگر یہ پہنچ جاتا تو صبح دس کے لگ بھگ اس نے کراچی کو Hit کرنا تھا اب پچاس فٹ اونچی سمندری لہریں جو سو میل کی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہوں اس نے تو کراچی کے میل ہا میل تک کلیۂ صفایا کر دینا تھا اس علاقے سے نام ونشان شہر کے اس علاقے سے مٹ جانے تھے۔تو اس لئے جو سمجھ دار ہیں جو صاحب دل لوگ ہیں وہ مجھے خط لکھتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے فضل فرمایا اور ایک نشان پورا بھی فرما دیا ہماری سرخروئی بھی کر دی اور بنی نوع انسان کو ایک بڑے دکھ سے بھی بچالیا لیکن بعض نو جوان بیچارے جو یہ حکمتیں نہیں سمجھتے یا پوری تربیت نہیں رکھتے بہت چند ہیں گنتی کے مگر انہوں نے یہ لکھا کہ اللہ میاں نے جب یہاں تک پہنچا دیا تھا تو آگے تک جاتے کیا