خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 530
خطبات طاہر جلدم 530 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے۔ایک اس طرح کہ بعض لوگ اس دن اپنے گناہوں کو وداع کہتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے ان سے رخصت ہوتے ہیں اور یہ جمعہ ان کے لئے مبارکوں کا پیغام لے کر آتا ہے اور بشارتیں لے کر آتا ہے اور اس جمعہ سے دھل کر وہ نوزائیدہ بچے کی طرح معصوم ہو کر نکلتے ہیں۔پس یہ آخری جمعہ ان کے لئے گناہوں کا آخری جمعہ بن جاتا ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمتوں کے ساتھ وہ نیکیوں میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اور کچھ بد نصیب ایسے ہوتے ہیں جو اس جمعہ کے دن سے ایسی برکتیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نہ اس دن میں رکھیں نہ کسی اور دن میں رکھیں۔برکت کا دن وہی دن ہے جو گناہوں سے نجات کا دن ہو۔ایسا برکت والا دن نہ خدا نے پیدا کیا نہ عقل انسانی اسے قبول کر سکتی ہے کہ عارضی طور پر ایک دن کے لئے مسجد میں حاضری دے دی اور یہ سمجھ لیا کہ اب سارا سال ہمیں گناہوں کی آزادی نصیب ہوگئی ہے۔تو ایسے لوگوں کے لئے یہ الوادع نیکیوں کو وداع کہنے کا دن بن جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح بھی ہوا دم گھونٹ کر ہم نے یہ مہینہ خدا کی اطاعت میں گزار لیا اب ہم واپس اس دنیا کی طرف لوٹتے ہیں جس دنیا میں ہمارے دل کی ساری لذات مضمر ہیں، جن کو ہم بڑی تمناؤں سے دیکھ رہے تھے کہ کب یہ مہینہ ختم ہو تو واپس اس آزادی کی دنیا کی طرف لوٹیں۔پس یہ جمعتہ الوداع ان کے لئے نیکیوں کو وداع کہنے کا جمعہ بن جاتا ہے۔اس جمعہ کو جو آج کا دن ہے ایک اور بھی اہمیت حاصل ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ لیلۃ القدر کی راتوں میں عین وسط میں واقع ہوا ہے۔وہ آخری عشرہ جس کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو بشارت دی کہ اس عشرہ میں تم خصوصیت کے ساتھ لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔یہ اس عشرہ کے عین وسط میں ایک طاق رات میں واقع ہوا ہے۔یعنی اس کے پہلے اکیس اور تئیس کی دو طاق راتیں گزریں جن میں لیلۃ القدر کے ظاہر ہونے کا امکان موجود ہے اور پچیس کی رات جو اس جمعہ نے دیکھی وہ بھی ایک طاق رات تھی اور بعد ازاں دو طاق راتیں ابھی باقی ہیں۔جہاں تک لیلۃ القدر کا تعلق ہے اس کے متعلق بھی بہت سے خیالات ہیں جو پھیلے ہوئے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک ایسی رات اس دن ضرور آتی ہے جس دن نزول قرآن شروع ہوا اور وہ غیر معمولی برکتوں کی رات ہے لیکن اس کا بھی یہ معنی ہر گز نہیں