خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 531 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 531

خطبات طاہر جلدم 531 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۸۵ء کہ اس ایک رات کو پا کر پھر تاریکیوں کی رات میں انسان واپس لوٹ جائے کیونکہ قرآن کریم کی وہ سورۃ جس میں اس رات کا ذکر ملتا ہے اس تصور کو بالکل جھٹلا رہی ہے اور رد فرما رہی ہے۔چنانچہ فرمایا یہ رات جاری رہتی ہے هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ اس رات کے بعد تو ابدی نیکیوں کا دن طلوع ہوتا ہے۔اس رات کے بعد گناہوں کی راتوں میں لوٹنے کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ہمیشہ کی روشنی طلوع ہو جاتی ہے جو کبھی پھر مومن کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔پس یہ تصور بھی جو بد قسمتی سے ظاہر پرست علماء نے امت میں پھیلا دیا ہے۔ان راتوں کو عبادت کی تحریک کرتا ہے ان راتوں کے بعد عبادت سے عدم دلچسپی پیدا کرتا ہے۔لوگ اس انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں کہ وہ چندرا تیں آئیں جن میں ہم زور لگا کر اپنے رب کو راضی کر لیں اور اس کے بعد پھر سارا سال ہمارا رب ہمیں راضی کرتار ہے اور ہم اس کی نعمتوں کو جس طرح چاہیں استعمال کریں۔لیکن لیلۃ القدر کا صرف یہی مفہوم نہیں بلکہ اور وسیع تر مفہوم بھی ہے اور جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی اور خلفاء جماعت احمدیہ نے بھی اس مضمون پر مختلف رنگ میں اظہار خیال فرمایا۔لیلۃ القدر کا مضمون تو ایک بہت وسیع مضمون ہے اور لفظ لیلتہ کا اختیار کرنا اس رات کو ظاہر کرنے کے لئے خود یہ بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ یہ صرف چند لمحے کی رات نہیں بلکہ اس سے زیادہ وسیع زمانہ بھی مراد ہے۔چنانچہ جس طرح یوم اور نہار کو نسبت ہے اسی طرح لفظ لیل اور لیلۃ کو ایک نسبت ہے۔نہار تو صرف ظاہری دن کو کہا جاتا ہے جو چوبیس گھنٹے کے اندر ختم ہو جاتا ہے یعنی اس نہار کے اندر عرف عام کے لحاظ سے دن بھی شامل ہو جاتا ہے اور رات بھی شامل ہو جاتی ہے۔چوبیس گھنٹے کے دن کو نہار کہتے ہیں اور زمانہ کے لئے نہار کا لفظ استعمال نہیں ہوتا لیکن چوبیس گھنٹے کے دن کو بھی یوم کہا جاتا ہے مگر اس کے علاوہ ، ایک وسیع زمانہ کے لئے بھی یوم کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے جو سات دنوں میں زمین اور آسمان کی پیدائش کا ذکر فرمایا اس سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے اور خود قرآن کریم لفظ یوم کے متعلق فرماتا ہے کہ بعض یوم خدا کے نزدیک پچاس ہزار برس کے برابر ہیں۔تو یہ نہیں کہ ہم قرآن کی تائید میں اپنی طرف سے اس کی طرف باتیں منسوب کرتے ہیں، جب قرآن چھ یا سات دن میں زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرماتا ہے تو خود