خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 516 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 516

خطبات طاہر جلد۴ 516 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء کے طور پر پاس ہی بیٹھا ہوا ہے۔اس رد عمل نے ایک نیا رجحان بھی پیدا کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ فوج نمائندہ ہے تمام استعماری طاقتوں کا، فوج نمائندہ ہے سرمایہ دارانہ قوتوں کا، فوج نمائندہ ہے تمہارے رؤوساء کا تمہارے بڑے زمینداروں کا تمہارے بڑے انڈسٹریلسٹ کا اور انہی کے ایماء پر ، انہی کے مفادات کے تحفظ کے لئے بار بار مارشل لاء لگتا ہے اور جب بھی فوجی حکومت آتی ہے اس وقت انڈسٹریلسٹ زیادہ ظالم ہو جاتا ہے، زیادہ مزدور کے حقوق غصب کرنے لگ جاتا ہے۔زمیندار اسی حکومت کے برتے پر غریبوں کو لوٹتا ہے ، ان کی فصلیں کھا جاتا ہے، ان سے سخت مزدوریاں لیتا ہے اور پھر ادا کچھ نہیں کرتا ہے، ان کی عورتوں کی عزتیں لوٹتا ہے، جرائم پھیلتے ہیں ہر طرف۔یہ نظریہ عوام میں پھیلایا جاتا ہے اور یہ جڑ پکڑ جاتا ہے۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہاں واقعہ یہی بات ہے۔تو سارے ملک کو غیر مستحکم کر دیا گیا ہے۔نہایت ہی خوفناک ملک دشمن عناصر جڑیں پکڑ رہے ہیں بلکہ پکڑ چکے ہیں اور نہایت خوفناک سازشیں ملک کے خلاف اہل وطن کرنے لگ گئے ہیں اور بظاہر بڑا مستحکم ملک نظر آ رہا ہے فوجی حکومت ہے کہتے ہیں مارشل لا نہیں ہٹانا کہیں فساد نہ پیدا ہو جائے۔تو استحکام کیسا ہو گیا جہاں فوج کے جاتے ہی اپنی فوج کے ہٹنے سے ملک میں فساد پھیل جائے۔دراصل بات یہ ہے کہ ساری بیماری ملائیت کے قبضہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔ہر دفعہ ملائیت کے نتیجہ میں فوج آئی، ہر دفعہ ملا ازم کے نتیجہ میں مذہب سے لوگ متنفر ہوئے، اشتراکیت کے لئے زیادہ جگہ ہموار ہوئی اور ہر دفعہ اسی ملائیت نے اہل وطن کو آپس میں ایک دوسرے سے لڑایا ہے اور فساد پیدا کیا ہے اور عدم اطمینان کے مواقع پیدا کئے ہیں۔جو ان کا کام تھا وہ انہوں نے نہیں کیا، جو خطرات تھے وہ انہوں نے دیکھے نہیں اور ان کی نشان دہی نہیں کی انہوں نے۔بیرونی خطرات تو ان کے ادارک سے باہر کی بات ہے اس پر ان کو ذمہ دار نہ بھی قرار دیں کہ وہ ان کو نظر نہیں آئے تو کوئی بات نہیں۔ان کو پتہ ہی نہیں عالمی سیاست کیا ہے، پاکستان کو کن کن ممالک سے کیوں خطرات ہیں اس میں یہ بیچارے ذمہ دار نہیں۔ان کے علم کا سرمایہ ہی اتنا ہے بیچاروں کا لیکن وہ اندرونی خطرات جن کا مذہب سے تعلق ہے جن کا براہ راست اُس اسلام سے تعلق ہے ، جس اسلام کی یہ نمائندگی کر رہے ہیں وہ ان کو خطرے کیوں نظر نہیں آئے۔انہوں نے دیکھا کہ دن بدن بے حیائی بڑھ رہی ہے ملک میں ، انہوں نے دیکھا کہ دن