خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 517
خطبات طاہر جلدم 517 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء بدن رشوت زیادہ ہوتی چلی جارہی ہے، انہوں نے دیکھا کہ دن بدن تمام اخلاقی اقدار کو قوم ایک طرف پھینکتی چلی جارہی ہے اور ظلم اور سفا کی بڑھ رہی ہے قتل وغارت بڑھ رہا ہے، حق تلفی بڑھ رہی ہے۔اسلام کا صرف نام باقی رہے گیا ہے کردار میں اسلام کا نشان مٹتا چلا جا رہا ہے۔یہ سب یہ دیکھ رہے تھے اور اب بھی دیکھ رہے ہیں اور ان کو کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا اور اس کے نتیجہ میں پھر آگے ایسے ایسے خوفناک نقصانات بڑے نمایاں نظام کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔یہ چیزیں معمولی باتیں نہیں ہیں جب میں کہتا ہوں رشوت ہو رہی ہے تو اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ایک آدمی کا حق متاثر ہوا اس کو مجبوراً پیسے دے کر کام کروانا پڑا۔یہ جو رشوتوں کا نظام ہے جس ملک میں جاری ہو جائے اس سے اُس ملک کی تمام انسٹی ٹیوشنز غیر معمولی طور پر متاثر ہوتی ہیں اور بعض دفعہ ان کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں بالکل کیونکہ وہ انسٹی ٹیوشنز رشوت کی ایک باقاعدہ حکومت بن جایا کرتی ہے ، ایک با قاعدہ نظام حکومت کے طور پر متوازی طور پر ملک میں جاری ہو جایا کرتی ہے۔پاکستان ریلوے ہے مثلاً پاکستان ریلوے کے نقصانات کا مطالعہ کریں تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ اتنے کرائے ہر دفعہ بڑھاتے ہیں اور ہر دفعہ ایک ارب ، ڈیڑھ ارب دوارب روپیہ نقصان ہو رہا ہے۔دنیا میں ریلویز کما رہی ہیں اور ہماری ریلوے کرایوں کی غیر معمولی بڑھنے کے باوجود ہر دفعہ نقصان اٹھاتی ہے۔تو قوم کی اقتصادیات پر کتنا گہرا اثر پڑھتا ہے اس بات کا۔اگر آپ تجزیہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بعض پاکستان کے علاقوں میں تو با قاعدہ جتنے کرایے آپ حکومت کو ادا کرتے ہیں اتنے ہی کرایے جب تک آپ ریلوے کے حکام کو نہیں دیتے اس وقت تک آپ کا مال ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ ہی نہیں سکتا۔جب جنس تیار ہوتی ہے زمیندار کی اس کو ضرورت ہے کہ فوری طور پر اس کو پیسہ ملے اپنے قرضے اتارے اپنے مالئے ادا کرے۔اس وقت تمام بوگیاں صرف اس شرط پر مہیا ہوتی ہیں کہ با قاعدہ ان کا ریٹ جو مقرر ہے اس کے مطابق پیسے دیئے جائیں اور اگر آپ نہیں دیں گے تو خالی بوگیاں پڑی رہیں گی اور کہا یہی جائے گا کہ ہے ہی کچھ نہیں۔جب آپ با قاعدہ پیسے دیں گے تو پھر وہ بوگیاں چلیں گی اور جب یہ نظام جاری ہوتا ہے تو پھر ان کا نقصان پورا کرنے کے لئے کم لکھوایا جاتا ہے اور گورنمنٹ کو کرایہ کم کر دیا جاتا ہے، یہ سمجھوتہ شروع ہو جاتا ہے اور اس وقت بہت حد تک یہ کام ہو رہا ہے۔انفرادی طور پر ٹکٹ کے پیسے گورنمنٹ کو دینے کی بجائے