خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 514 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 514

خطبات طاہر جلدم 514 خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۸۵ء سیاسی رجحانات اچانک منقطع کر دیئے گئے۔جو سیاسی عمل جاری ہوا تھا آغاز سے وہ آزاد فضا کا متقاضی ہے اپنی پرورش اور نشونما کے لئے۔جب مذہبی امور دخل انداز ہو جاتے ہیں سیاست میں اور فوج کو موقع دے دیتے ہیں حکومت پر قبضہ کرنے کا تو سیاسی عمل دخل یا سیاسی نظام جو جاری ہوتا ہے سیاسی سوچ اور سیاسی فکر جو پختگی کی طرف چل رہی ہوتی ہے وہ پختہ ہونے سے پہلے پہلے منقطع ہو کر ختم ہو جاتی ہے۔چنانچہ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے جتنے ممالک ہیں ان میں جہاں ملائیت نہیں وہاں بغیر روک ٹوک کے سیاسی نشو و نما ہوئی ہے اور بہت سے مراحل طے کر کے اب مستحکم ہو چکی ہیں۔سیاسی سوچیں، سیاسی تفکرات سارے مستحکم ہو چکے ہیں۔چین کو دیکھیں ، ہند وستان کو دیکھیں۔ہندوستان تو ہمارا ہمسایہ ہے، ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا تھا، مسلسل بغیر روک ٹوک کے ان کا سیاسی عمل جاری ہے۔نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب تمام دنیا میں ان کی ایک عزت ہے ، ان کا ایک احترام ہے، ان کا ایک مقام ہے۔اور بعض مسلمان ممالک پاکستان سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ہندوستان کو کیونکہ انہوں نے اپنا ایک مقام قائم کر لیا ہے۔وجہ کیا ہے؟ وہاں ملائیت کا قبضہ نہیں ہے، نہ انہوں نے مسلمان کی ملائیت کا وہاں قبضہ ہونے دیا ہے، نہ اپنے پنڈتوں کا قبضہ ہونے دیا ہے اور سیاست کو مذہبی عمل دخل سے آزاد رکھا ہوا ہے۔پاکستان میں بدقسمتی سے ملائیت نے ہر دفعہاس عمل کو توڑ دیا۔نشو و نما ہی نہیں ہوسکی اور پھر سیاست دان ہر دفعہ حیران ، پریشان اور ہر دفعہ مارکھانے کے بعد یہ سوچتا رہا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوئی ہے ، یہ کیا واقعہ گزرگیا ہے۔اس کے بہت سے دوسرے شدید نقصانات قوم کو پہنچے ہیں جن کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔بار بار جب فوج اور پر آئی ہے تو ان سیاستدانوں نے یہ تو نہیں دیکھا کہ مولوی اس کا ذمہ دار ہے لیکن انہوں نے یہ دیکھا کہ پاکستان کی فوج جس کی اکثریت پنجاب سے ہے وہ اس کی ذمہ دار ہے۔چنانچہ فوج کے خلاف گہری منافرتیں پھیلائی گئیں ہیں اقلیتی صوبوں میں اور خصوصاً سندھ اور بلو چستان میں جو پاکستان کے خلاف تحریکات چل رہی ہیں اس وقت اور دن بدن زور پکڑتی جارہی ہیں اور نہایت ہی خطرناک زہریلا پروپیگنڈا پاکستان کے خلاف کیا جارہا ہے جوان کی یو نیورسٹیوں میں ان کے سکولوں میں پھیلایا جارہا ہے۔