خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 497 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 497

خطبات طاہر جلدم 497 خطبه جمعه ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء نے اپنی قوم سے متعلق کی تھیں، نہ آپ کو اس کی اجازت دے سکتا ہوں کہ آپ لوگ جو پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں یا جو پاکستان سے تعلق نہیں رکھتے وہ پاکستانی قوم کے خلاف ایسی دعائیں کریں۔البتہ زیادہ سے زیادہ یہ دعا کی جاسکتی ہے ( کیونکہ اس حد تک ایک بے اختیاری کا بھی عالم پیدا ہو چکا ہے) کہ اے خدا! مخالفین سلسلہ میں سے جو آئمہ استغفیر ہیں ان کوضرور پکڑا اور ان کو عبرت کا نمونہ بنادے تا کہ آئندہ نسلیں ان سے نصیحت پکڑیں۔لیکن جہاں تک قوم کا تعلق ہے یہ مظلوم ہے، حقیقت حال سے بے خبر ہے، لاعلم ہے یعنی قوم کی اکثریت کو اس بات کا پتہ نہیں کہ مولوی کیا کہہ رہے ہیں۔جماعت کے خلاف اس قدر جھوٹ پھیلایا گیا ہے اور اتنا کذب سے کام لیا گیا ہے کہ کچھ عرصہ ہوا مجھے ایک دوست نے بتایا کہ کراچی جیسے شہر میں تعلیم یافتہ لوگ جو جماعت سے واقف ہیں اور بظاہر دنیا کی تعلیم سے خوب آراستہ ہیں (ایسی ہی ایک مجلس میں ذکر ہورہا تھا ) ان سے میں نے احتجاجاً کہا کہ اب بتاؤ کہ کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادت جو سارے عالم اسلام میں قدر مشترک ہے بلکہ یہ ایک ایسی قدر مشترک ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ غیروں کو بھی بلاتا ہے ، عیسائیوں کو دعوت دیتا ہے کہ اس مشترک کلمہ کی طرف آؤ اور اس کے پہلے حصہ میں ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ اس کو زبردستی مٹایا جارہا ہے، اس کی تذلیل کی جارہی ہے ، اس کی اسلام تمہیں کیسے اجازت دیتا ہے اس کی کوئی دلیل دو۔کہتے ہیں پڑھے لکھے لوگوں کی اس مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ ہاں اس کی دلیل یہ ہے کہ تم منہ سے کچھ اور کلمہ کہتے ہو اور دل میں کچھ اور کلمہ ہے۔منہ سے محمد رسول اللہ ﷺ کا نام لیتے ہو دل میں مرزا غلام احمد قادیانی کا نام لیتے ہو۔اس جھوٹ اور افتراء کی بھی حد ہے۔لیکن مولوی نے اس کثرت سے جھوٹ بولا ہے اور ایسے افتراء سے کام کیا ہے کہ پاکستانی سوسائٹی میں نیچے سے اوپر تک اس جھوٹ کا زہر گھول دیا ہے اور عالم کو بھی جاہل بنادیا ہے۔اس لئے ایسے ظالم لوگ جنہوں نے اس کثرت سے جھوٹ بولا ہے اور قوم کی عاقبت کی کوئی پروانہیں کی ،اپنی عاقبت کا تو ان کو معلوم ہوتا ہے کبھی خیال ہی نہیں آتا کہ وہ خود کس قماش کے لوگ ہیں اور ان سے کیا ہونے والا ہے مگر قوم کی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔ایسے لوگوں کے بارہ میں تو ہمارے دل کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ اب کوشش بھی کریں تو دل سے دعا نہیں نکلتی۔عمومی طور پر ہم یہ دعا تو کرتے ہیں کہ اے اللہ ان میں سے اکثریت کو ہدایت عطا فرما، اکثریت کو بچالے اور ان کو ظلم سے باز رکھ۔یہ لوگ مسلسل سفا کی سے