خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 496
خطبات طاہر جلدم 496 خطبه جمعه ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا فَلَمْ يَزِدْهُمُ دُعَا عِى إِلَّا فِرَارًا وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي أَذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَاَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًان ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ل ( نوح:۶ - ۱۱) کہتے ہیں اے میرے رب ! میں نے تو اپنی قوم کو صبح بھی بلا یا رات کو بھی بلایا اور دن کو بھی بلایا لیکن میری آہ و پکارنے ، میری دعوتوں نے اور میرے بلاوے نے ان کو بھاگنے کے سوا اور کسی چیز میں نہیں بڑھایا۔میں ہر دفعہ جب انہیں اس بات کی طرف دعوت دیتا تھا کہ اے میرے رب تو ان کو بخش دے تو وہ اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے تھے اور اپنے کپڑے تکبر سے سمیٹنے لگتے تھے اور اپنے انکار پر اصرار کرتے تھے اور بہت بڑے استکبار میں مبتلا ہو جاتے تھے۔پھر ان کو میں نے کھلے طور پر بھی بلایا اور اعلان کر کے بھی بلایا اور خفیہ اشاروں کے ساتھ ان کو سمجھانے کی کوشش بھی کی اور ان کو ہمیشہ یہی کہتا رہا اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمُ الله سے بخشش مانگو،اپنے رب سے استغفار کرو، اِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا اس بات کو مت بھولو کہ وہ بہت ہی بخشنے والا ہے۔پھر اس کے بعد وہ دعا ہے جو میں نے عمد ا چھوڑ دی کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ اپنی قوم کی زیادیتوں پر وہ دعا مانگوں جس پر حضرت نوح نے اس کو انجام تک پہنچایا اگر چہ یہ ایک بہت ہی خوفناک دعا ہے لیکن حضرت نوح بھی جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا ہر گز اپنے رب سے یہ دعانہ مانگتے اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے آپ کو قوم کے انجام کے بارہ میں خبر دے کر خود اس دعا کی اجازت نہ فرما دی ہوتی۔بہر حال پرانی تاریخ دہرائی تو جاتی ہے لیکن لفظاً لفظاً بعینہ دہرائی نہیں جاتی ، اس میں بہت سے انتباہ ہوتے ہیں، بہت سے سبق ہوتے ہیں تاکہ صاحب فہم قومیں اگر ان سے استفادہ کرنا چاہیں تو کرسکیں۔پس نہ میں خود یہ پسند کرتا ہوں کہ اپنی قوم کے بارہ میں وہ دعائیں کروں جو حضرت نوح