خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 498 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 498

خطبات طاہر جلدم 498 خطبه جمعه ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء کام لے رہے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر گند اچھال رہے ہیں ان کو اس سے باز رکھ۔لیکن کچھ ان میں سے ایسے ضرور ہونے چاہئیں جولوگوں کے لئے عبرت کا نمونہ بنیں تا کہ جماعت کے دل بھی ٹھنڈے ہوں ، انہوں نے بد زبان مولویوں کے ہاتھوں بہت دکھ اٹھائے ہیں۔خدا ان کو جلد پکڑے ان کی عبرت کا نمونہ ساری قوم کے لئے نجات کا موجب بن جائے۔یہ مقصد ہونا چاہیئے اس دعا میں محض بددعا نہیں بلکہ یہ مقصد ہو کہ اس سے قوم کی بھاری اکثریت ہدایت پا جائے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ باز نہیں آرہے اور تمرد اور سرکشی میں دن بدن آگے سے آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں اور یہ نمونہ جو خدا نے ان کو آج کے دن دکھایا ہے اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ استفادہ نہیں کریں گے بلکہ تضحیک کریں گے، تمسخر اڑائیں گے اور کہیں گے طوفان آیا تھائل گیا نا آخر ! ہم مستحق ہیں اس بات کے کہ ہمیں بچایا جائے ، یہ گویا ان کے حق میں نشان ظاہر ہوا ہے حالانکہ یہ ان کے بارہ میں نشان نہیں ہے پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں۔نشان یہ ہے کہ اب بھی اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو پھر خدا کی پکڑ اسی طرح آئے گی کہ وَلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ ( ص :۴) تمہارے لئے پیچھے ہٹنے یا دائیں بائیں ہونے کی کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔کوئی آگے بڑھنے کی جگہ باقی نہیں رہے گی۔یہ وہ عبرت کے نشان ہیں جو ہمیشہ ظاہر ہوتے ہیں اور لقموں کے طور پر دکھلائے جاتے ہیں اور آئندہ آنے والے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کاش کوئی ان سے استفادہ کرتا۔لیکن بظاہر معلوم یہی ہوتا ہے کہ جیسے پرانے لوگوں کی تقدیر تھی اب بھی لوگ نشان دیکھ کر انکار کر دیتے ہیں اسی لئے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں اس قوم کو متنبہ کر کے اپنا فرض ادا کرتا ہوں۔یہ مذہبی طور پر ایک تنبیہ ہوگی اور ہو سکتا ہے کہ یہ باتیں ان کی سمجھ میں نہ آئیں کیونکہ جس دنیا میں ہم بس رہے ہیں، خدا کو جس طرح بار بار ایک زندہ حقیقت کے طور پر ہم نے دیکھا ہے دن رات اپنے گھروں میں اپنے روز مرہ کے سلوک میں ، اس طرح ان لوگوں نے اس خدا کو دیکھا نہیں اس لئے ہوسکتا ہے یہ باتیں ان کی سمجھ میں نہ آئیں۔یہ باتیں ان کی سمجھ سے بالا ہوں اس لئے تنبیہ کے دوسرے پہلو کے طور پر میں نے وہ حصہ رکھا ہے جس کو میں نے ابھی شروع میں بیان کیا تھا کہ ملاں کے قبضہ کے انجام سے