خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 495 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 495

خطبات طاہر جلد۴ 495 خطبه جمعه ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء کو مکروں کا جو موقع دیتے چلے جارہے ہیں ہر قسم کے مکر تیرے خلاف کر رہے ہیں تو اس پر تم یہ نہ سمجھو کہ ہم نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔یقین رکھو کہ تمہاری عاقبت اچھی ہے اور ان کی عاقبت لازماً خراب ہونے والی ہے، اگر یہ لوگ باز نہ آئے۔تم سے یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں اور طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صَدِقِيْنَ اور چھیڑ خانیاں کرتے ہیں کہ بتاؤ وعدہ کب پورا ہوگا، یہ بھی تو بتاؤ کہ کب ہم پکڑے جائیں گے، اگر تم سچے ہو تو دکھاؤ وہ عذاب کہاں ہے، خدا کی وہ پکڑ کہاں گئی۔فرمایا اس کے جواب میں تو اتنا کہہ عَلَى أَنْ يَكُونَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ ہوسکتا ہے تمہیں پتہ ہی نہ چلا ہو اور ایک واقعہ رونما ہو گیا ہو یہ وہ چیزیں ہیں جن کی تم جلدی کر رہے ہو ان میں سے ایک حصہ تمہارے پیچھے لگ بھی چکا ہے اور تمہیں پتہ ہی نہیں کہ ہمارے پیچھے خدا کا عذاب لگ چکا ہے اور وہ چھوڑنے والا نہیں۔لیکن کیوں پیچھے لگ رہا ہے اور کیوں اسے پکڑ نہیں رہا۔یہ مہلت کیوں دی جارہی دے ہے۔فرمایا وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ اللہ اپنے بندوں پر بہت ہی فضل کرنے والا ہے، پکڑنے میں دھیما ہے اور تکلیف دے کے خوش نہیں ہوتا۔اس لئے بسا اوقات ایسے انتظام فرما دیتا ہے کہ مجرم اگر باز نہ آئیں تو پیشتر اس کے کہ وہ مجرم یہ کہ سکیں کہ ہم کامیاب ہو گئے خدا کا عذاب انہیں پکڑ لیتا ہے جو پہلے سے ہی ان کے پیچھے لگ چکا ہوتا ہے۔لیکن پیشتر اس کے کہ وہ واقعہ ہو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ ہدایت پائیں ان پر خدا کی رحمتیں اور فضل نازل ہوں وہ ساری کی ساری طاقتیں جو خدا کے عذاب کے لئے استعمال ہوتی ہیں وہ خدا کی رحمت کے لئے بھی تو استعمال ہو سکتی ہیں ، وہ رحمت کا موجب بھی بن سکتی ہیں۔چنانچہ سورۃ نوح میں خدا تعالیٰ اس مضمون کو زیادہ کھول کر بیان فرماتا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام خدا سے عرض کرتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم کو کھول کھول کر متنبہ کر دیا ہے اور ان کو یہ بھی بتادیا ہے کہ آسمان سے آنے والا پانی رحمتوں کا موجب بن جائے گا،ضروری نہیں کہ یہ عذاب کا موجب بنے ، خدا تعالیٰ ایسے فضلوں کی بارش تم پر برسائے گا جس کا فیض تم ہمیشہ کھاتے رہو گے اور دین اور دنیا کی نعمتیں پا جاؤ گے لیکن میری ساری نصیحتوں ، دن رات کی باتوں اور میری تقریروں نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا۔چنانچہ ایک عجیب دردناک منظر ہے جو حضرت نوح“ خدا کے حضور پیش