خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 482 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 482

خطبات طاہر جلدم کر اس میدان میں ترقی کریں۔482 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء کبھی احمدیت کو شاید اتنی دعاؤں کی ضرورت نہ پڑی ہو جتنی آج ضرورت ہے۔ہر طرف سے دشمن انتہائی بھیانک سازشیں کر رہا ہے اور وہ مقدس وجود یعنی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں موجود نہیں ہیں جن کی ایک ذات کے ساتھ ساری کائنات کا دل دھڑک رہا تھا۔خدا کی نظریں جب آپ پر پڑتی تھیں تو اپنے زمانے میں چونکہ وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نائب اور خلیفہ تھے اس لئے ساری کائنات کا آپ خلاصہ تھے ایک دل تھے گویا اور وہ صحابہ جن کی آپ نے تربیت فرمائی جن کو آپ نے اعلیٰ منازل اور مقامات تک پہنچایا وہ بھی بہت کم رہ گئے ہیں اور مصیبتیں ہیں کہ پہلے سے بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں ، دکھ ہیں جو پھیلتے چلے جارہے ہیں اور زیادہ گہرے بھی ہوتے چلے جارہے ہیں۔وہ مشکلات جو کبھی ملکی حیثیت رکھتی تھیں اب وہ بین الاقوامی حیثیت اختیار کر گئیں ہیں۔بڑی بڑی قومیں ان سازشوں میں ملوث ہو چکی ہیں اور ایسے قرائن ہی نہیں بلکہ بعض شواہ مل رہے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی جماعت کو نہایت بری نظروں سے دیکھ رہی ہیں اور جماعت کے خلاف ہر سازش کرنے والے کی مددگار اور معین ہیں۔تو جب حالات یہ ہوں تو سوائے اس کے چارہ ہی کوئی نہیں کہ اور زیادہ شدت کے ساتھ اور زیادہ الحاح اور درد کے ساتھ اپنے خدا کی طرف دوڑیں۔اور ایک تعلق نہ ہو دنیا کے ہر کونے ، ہر جگہ میں جہاں احمدیت بستی ہے وہاں خدا والی احمدیت بس رہی ہو۔جہاں احمدی بستے ہیں وہاں خدا والے بس رہے ہوں۔ان مصیبتوں کو آپ گھیر لیں۔جب دشمن حملہ کر کے گھیرا ڈالتا ہے تو اس کا ایک ہی علاج ہوا کرتا ہے کہ اس گھیرے کو تو ڑ کر اس دشمن کو گھیرے میں ڈال لیا جائے۔پس جب ہر طرف سے بدنیت اور بد باطن دشمن احمدیت کو گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔آپ چاروں طرف سے خدا کی مددکو پکارتے ہوئے ہر طرف سے دشمن کو گھیرے میں لے لیں اور احمدیت خدا کی نصرت کی لپیٹ میں آجائے ، اللہ تعالیٰ کی تائید اور محبت کی لپیٹ میں آجائے اس وسیع تر دائرے کی لپیٹ میں آجائے جسے دنیا کی کوئی طاقت پھر تو نہیں سکتی۔پس اصل گر یہی ہے دنیا کی کوششیں، دنیا کے اسباب ،حکمت کے ذرائع اختیار کرنا یہ سارے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔اصل چیز مقبول دعا ہے اور اصل چیز تعلق باللہ ہے۔آج کل