خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 481 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 481

خطبات طاہر جلدم 481 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء مذاہب نے بدھا کا نام دیا ہے ، بعضوں نے گیان کہا ہے۔لیکن درحقیقت عقل خدا کے وجود کی حقیقت کو اس حد تک سمجھنے کا نام ہے، جس حد تک انسانی بناوٹ میں یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کوسمجھ سکے۔رشد عرفان کا نام ہے۔تو فرماتا ہے کہ انسان پھر عرفان کے درجہ تک ترقی کر جاتا ہے۔رمضان المبارک کے بہت سے فوائد ہیں اور جیسا کہ ابھی آپ نے سنا ہے ایک بہت بڑا فائدہ ہے کہ خدا اپنے بندے کی پہلے سے زیادہ سنتا ہے اور اس کے بالکل قریب آجاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو رمضان کی برکات بیان فرمائیں ان میں یہ مضمون بھی بڑا کھول کر بیان فرمایا کہ رمضان کے دنوں میں اللہ تعالیٰ قریب آجاتا ہے انسان کے۔اتنا قریب کہ اور کسی عبادت میں اتنا قریب نہیں آتا۔بلکہ یہ بھی فرمایا کہ ہر نیکی کی کوئی جزا ہے اور خدا فرماتا ہے کہ روزے کی جزا میں خود ہوں ( بخاری کتاب التوحید حدیث نمبر : ۶۹۳۸) یعنی میں اس عبادت کا مقصود بالذات ہوں اور پھر وہ سلوک فرماتا ہے جواپنوں کے ساتھ مالک کیا کرتے ہیں۔پھر جو چاہیں آپ درخواستیں کریں پھر خدا سنتا ہے اور مانتا ہے۔انسان سے لاڈ اور ناز کے سلوک فرماتا ہے۔اس لئے ایک بہت ہی عظیم الشان برکتوں والا مہینہ ہے۔خاص طور پر آج کل جو جماعت پر حالات ہیں ان میں ضرورت ہے کہ جماعت میں کثرت کے ساتھ اہل اللہ پیدا ہوں۔اس کثرت کے ساتھ تعلق باللہ والے پیدا ہوں کہ خدا سے ایک رشتہ نہ رہے۔ہزار رشتے نہ رہیں ، لاکھوں، کروڑوں رشتے بن جائیں۔ایک پیارے کی آواز کو اگر کبھی نظر انداز بھی کر دیا جاتا ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ لاکھوں کروڑوں پیاروں اور محبت کرنے والوں اور محبوبوں کی آواز میں اٹھ رہی ہوں اور خدا تعالیٰ ان کو نظر انداز فرما دے۔وہ تو اتنا پیار کرنے والا ، اتنا وفا کرنے والا ہے کہ ایک پیارے کی آواز کو بھی رد نہیں کیا کرتا۔بعض دفعہ ایک کی خاطر وہ قوموں کی تقدیر بدل دیا کرتا ہے۔اس لئے بہت کثرت سے دعائیں کریں اور دعاؤں سے پہلے رضا کا تعلق قائم کریں۔یا د رکھیں جب تک رضا کے مضمون کو آپ نہیں سمجھتے ،عبادت کے مفہوم کو آپ نہیں سمجھتے اس وقت تک لقاء ممکن نہیں ہے اور جب تک حقیقی لقاء نہ ہو اس وقت تک فَإِنِّي قَرِيبٌ کی آواز آپ کو نہیں آسکتی۔أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کی آواز آپ نہیں سن سکتے اس لئے دعاؤں کی مقبولیت کے لئے یہ تمام شرائط ہیں ان کو خوب اچھی طرح سمجھ