خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 480
خطبات طاہر جلدم 480 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء اور جب رضا حاصل نہیں ہو گی تو لقاء کیسے حاصل ہو جائے گی۔پس اپنی عبادات کو درست کرو پھر لقاء کی وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيب تمنا رکھو اور خداوعدہ کرتا ہے اے محمد علی جب تجھ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھتے ہیں فَانِي قَرِيبٌ میں قریب ہوں۔أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ میں ان بندوں کو جو میری تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں، جو میری خاطر نکلتے ہیں ، جو مجھے ڈھونڈنے کے لئے ایک سفر اختیار کرتے ہیں ان کو خوشخبری دیتا ہوں أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کہ جب وہ مجھے بلاتے ہیں تو میں ان کی پکار کو سنتا ہی نہیں اس کا جواب دیتا ہوں فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ان کو بھی تو چاہئے کہ وہ میری دعوت کے اوپر لبیک کہا کریں، میری باتوں کو تسلیم کیا کریں، جس طرح میں چاہتا ہوں اس طرح زندگی بسر کریں۔تو دوبارہ توجہ دلا دی کہ خالی لقاء کوئی چیز نہیں ہے۔لقاء رضا کی شرط کے ساتھ ہوتی ہے۔اس سے پہلے بھی رضا کی شرط رکھی گئی ہے اور اس کے بعد بھی رضا کی شرط رکھی گئی ہے۔جو حقیقۂ لقاء کے مقام پر پہنچتے ہیں وہ پہلے سے بڑھ کر رضا کے جو یاں ہو جاتے ہیں۔پہلے سے بڑھ کر انھیں اطاعت کا چسکا پڑ جاتا ہے، اس کی لگن لگ جاتی ہے۔تو پہلے بھی اطاعت کا مضمون رکھا اور بعد میں بھی اطاعت کا مضمون رکھا فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے بعد میں رکھنے کا کہ ابھی تک گویا ان کو ایمان ہی نصیب نہیں ہوا تھا اور خدامل گیا تھا اور خدا کی باتوں کا انکار کرتے تھے تب بھی خدا مل گیا تھا بلکہ اس میں ترقی کا اگلا زینہ دکھایا گیا ہے۔رمضان کی عبادتوں اور دیگر عبادتوں کے ذریعہ جب انسان خدا کی طرف حرکت کرتا ہے اللہ اسے ایک لقا ایک جلوہ عطا فرماتا ہے اور اس جلوے کے نتیجے میں وہ وہیں بیٹھ نہیں رہتا بلکہ پہلے سے بڑھ کر زیادہ لگن زیادہ شوق زیادہ ذوق کے ساتھ وہ خدا کی مزید جستجو کرتا ہے اور جان لیتا ہے کہ یہ سب پھل اس کو اطاعت کے نتیجے میں ملا تھا۔اس لئے اطاعت میں پہلے سے زیادہ ترقی کر جاتا ہے۔وہ جان لیتا ہے کہ اس کا ایمان ضائع نہیں گیا اور حقیقت میں ایک زندہ خدا، قدرتوں والا خدا موجود ہے اس لئے وہ ایمان میں بھی ترقی کر جاتا ہے اور رشد کو پا جاتا ہے یعنی اس عقل کل کو پا جاتا ہے جسے بعض