خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 479
خطبات طاہر جلدم 479 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء نہیں رغبت حاصل کرنے کے لئے۔اپنے رب سے لذتیں پانے کے لئے۔چنانچہ ایک ہی دنیا میں کئی قسم کی دنیا ئیں آباد ہیں۔لاکھوں کروڑوں قسم کے انسان ہیں اور ہر ایک کی ایک نئی دنیا ہے اور موت اور زندگی کے مابین ، عسر اور یسر کے درمیان اتنی منازل ہیں کہ ان کی کوئی انتہا نہیں کوئی شمار ممکن نہیں لیکن اگر آپ اللہ پر بھروسہ کریں اور اس پر یقین کامل رکھیں اس کی بتائی ہوئی عبادتوں کو اپنے لئے آسانی یقین کریں۔تو بالآخر آپ کا ہر قدم آپ کو مشکلات سے آسانیوں کی طرف لے کر جائے گا۔وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلى مَا هَدكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ پر الله تعالیٰ جب روزے فرض فرماتا ہے اور ایک خاص مہینے میں فرض فرماتا ہے تو جن سے وہ روزے چھٹ جائیں فرماتا ہے تم بہر حال عدت کو پورا کر لو اور اللہ کی تکبیر کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی اور یہ رمضان کا مہینہ اور یہ سارا نظام اس لئے خدا نے رکھا ہے لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ تا کہ تم اس کے شکر گزار بندے بنو اور ظاہر بات ہے کہ انسان مصیبتوں اور تکلیفوں یہ تو شکر ادا نہیں کیا کرتا۔معلوم ہوتا ہے کہ تمام نظام جو صوم اور صلوۃ کا نظام ہے جس کا یہاں ذکر ہے۔خصوصاً صوم کی عبادت، یہ عبادت اتنی بڑی نعمتیں اپنے اندر رکھتی ہے، یہ نظام اتنا انسان کا محسن ہے کہ جو انسان بھی اس کی حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ہے وہ سوائے اس کے کہ اللہ کا شکر کرے کچھ راہ نہیں پاتا۔لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ رمضان سے گزرنے کے بعد سوائے اس کے کہ تم خدا کے اور زیادہ شکر گزار بندے بن جاؤ اور کوئی کیفیت نہیں ہو سکتی۔پھر اس کے نتیجے میں جو آخری انعام ہے وہ حیرت انگیز انعام ہے جس کے اوپر انعام ممکن نہیں وہ لقائے باری تعالیٰ ہے اور یا درکھیں کہ لقاء ممکن نہیں رضا کے بغیر۔رضائے باری تعالیٰ پہلے ہے اور لقائے باری تعالیٰ بعد میں ہے۔بعض لوگ لقاء کے آسان رستے ڈھونڈتے ہیں،صوفیاء سے پیروں فقیروں سے وہ جنتر منتر تلاش کرتے ہیں، وہ تعویذ گنڈا ڈھونڈتے ہیں جس سے گھر بیٹھے لقائے باری تعالیٰ حاصل ہو جائے اور بعض دفعہ وہ اس میں تکلیف بھی اٹھاتے ہیں لیکن اصل مضمون جو عبادت کا یہاں بیان ہوا اس کے بعد لقائے باری تعالیٰ کو رکھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعویذوں میں اور جنتر منتر میں اور خدا کی خاطر بعض کلمات کو بار بار دہرانے میں رضائے باری تعالیٰ نہیں ہے۔جس طرح خدا زندگی بسر کرنے کا ارشاد فرماتا ہے اس طرح زندگی بسر کرنے میں رضا ہے