خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 478
خطبات طاہر جلد ۴ 478 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء ہو کر اس وقت ان گندگیوں کو اپنے لئے بہترین غذا سمجھ رہی ہوتی ہیں اور جب وہ اعلیٰ روحانی غذا لے کر خدا کے شہزادے آسمان سے اترتے ہیں اور ان کو اپنی طرف بلاتے ہیں تو اسی طرح ان پر حملہ آور ہوتے ہیں جیسے کتا یہ سمجھ کر کہ مجھے نعمتوں سے محروم کیا جا رہا ہے گندگی سے باز رکھنے والوں پر غراتا اور حملہ کرتا ہے۔ تو یہ مثال ہر طرح - مثال ہر طرح سے سوفی صدی تو صادق نہیں آ دق نہیں آتی مگر سمجھا۔ بھانے کے لئے ایک پہلو اس کا میں نے دکھایا ہے کہ یہ صادق آبھی جاتی ہے اور انسانی زندگی چونکہ جانوروں کی زندگی سے زیادہ وسیع مضمون رکھتی ہے، زیادہ وسیع تجارب رکھتی ہے، زیادہ وسیع پہلو ہیں اس کی دلچسپیوں اور ذوق کے اس لئے ایک انسان کی زندگی میں بسا اوقات آپ کو مختلف جانوروں کے حالات بھی نظر آجاتے ہیں ۔ انسان گرتا ہے تو ایسی کیفیات تک پہنچ جاتا ہے جسے قرآن کریم سؤر کی کیفیت بیان فرماتا ہے، جب گرتا ہے تو ایسی کیفیات تک بھی پہنچ جاتا ہے جسے قرآن کریم بندر کی کیفیت بیان فرماتا ہے، ایسی کیفیات تک بھی پہنچ جاتا ہے جسے قرآن کریم کتے کی کیفیات بیان فرماتا ہے اور جب ترقی کرتا ہے اور آسمانی راہنما کے تابع ، اس کی ہدایت کے تابع اپنے ذوق کو بلند تر کرتا چلا جاتا ہے تو پھر فرشتوں سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ پھر اس کی حدالو ہیت کی حدوں سے جاملتی ہے۔ پس قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے جو عبادتیں تمہارے لئے فرض فرمائیں ان کا بنیادی فلسفہ یہ ہے يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے تکلیف نہیں چاہتا یہ یقین رکھو اور جب یہ یقین رکھو گے تو ہر عبادت بالآخر تمہیں لذتوں کی طرف لے کے جائے گی کیونکہ اگر وہ تکلیف نہیں پہنچانی چاہتا تو جو تمہیں تکلیف محسوس ہو رہی ہے تمہارے اندر کوئی نقص ہے، کوئی کمزوری ہے، کوئی بیماری ہے ، کوئی بگڑا ہوا زاویہ نظر ہے جب وہ ٹھیک ہو جائے گا تو تم یقین کرو گے اور حق الیقین تک پہنچ جاؤ گے کہ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا تھا تکلیف نہیں چاہتا تھا۔ جب اس مضمون پر آپ اس رنگ میں غور کرتے ہیں تو انبیاء کی وہ کیفیت سمجھ آجاتی ہے کہ سخت عبادتوں میں راتیں کھڑی ہو کر گزار رہے ہوتے ہیں اور آپ انہیں نہ بھی دیکھیں ان کے واقعات پڑھ کر ان پر رحم کرتے ہیں وہ بیچارے بڑی مصیبتوں میں مبتلا تھے اور خدا ان کو مخاطب کر کے فرمارہا ہوتا ہے فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَ إِلَى رَبِّكَ فَارْغَبُ (الم نشرح ۸-۹) تو کھڑا ہو تکلیف کی خاطر