خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 477 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 477

خطبات طاہر جلدم 477 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء برا ہے۔چنانچہ ایک مردار کے پاس جب گدھوں کو آپ دیکھتے ہیں یا کتوں کو دیکھتے ہیں کتنے مزے سے اور کس قدر لذتیں اٹھا اٹھا کر وہ اس مردار کو کھا رہے ہوتے ہیں جس کے پاس سے گزرنا بھی آپ کے لئے ایک مصیبت ہے اور آپ حیرت سے ان کو دیکھتے ہیں کہ ان بدنصیبوں کے نصیب میں یہی گندگی رہ گئی تھی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ محض زاویہ بدلنے کی بات ہے۔خدا تعالیٰ نے کسی کے نصیب میں بھی محض گندگی نہیں رکھی ہر تخلیق کو ایک مذاق عطا فرمایا ہے ایک زاویہ نظر عطا فرمایا ہے اور وہی چیز جو آپ کو گندگی نظر آ رہی ہے وہ اس کے لئے ایک نعمت بے بہا ہے ، ایک غیر مترقبہ نعمت ہے۔چنانچہ اس کتے کے دل سے پوچھیں جو اس گندگی سے لذت اٹھا رہا ہوتا ہے کہ وہ کس موج میں ہے اور اگر آپ پوچھ نہیں سکتے تو اس پر روڑا اٹھا کر اس کو بھگانے کی کوشش کریں، اس نعمت سے محروم کرنے کی کوشش کریں جسے آپ گند سمجھتے ہیں پھر دیکھیں وہ کس طرح آپ پر حملہ آور ہوتا ہے۔تو نسبتیں بدل جاتی ہیں اور صرف ایک ہی ذات ہے جو عالم الغیب والشہادۃ ہے وہی ہے جو جانتا ہے کہ کس کے لئے کیا چیز مفید ہے کس کے لئے کیا نعمت ہے اور کیا گند ہے اور بسا اوقات انسانی زندگی میں ایسے حالات آتے ہیں کہ کبھی ایک چیز کو وہ نعمت سمجھ رہا ہوتا ہے کبھی دوسری چیز کو نعمت سمجھ رہا ہوتا ہے، کبھی ایک چیز کو گند سمجھ رہا ہوتا ہے کبھی دوسری چیز کو گند سمجھ رہا ہوتا ہے اور عمومی طور پر جب انسانی ذوق کے دائرے پر آپ نگاہ ڈالتے ہیں تو ان سب چیزوں سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اس لئے صرف ایک ذات ہے اور وہی عالم الغیب والشھادۃ ہے، وہی خالق و مالک ہے جو حقائق الاشیاء سے واقف ہے۔وہ جانتا ہے کہ کسی انسان کے لئے کون سی چیز بہتر ہے اور جو چیز اس کے لئے بہتر ہے وہ بسا اوقات اس کے لئے اس وقت دکھ کا موجب بن سکتی ہے، تکلیف کا موجب بھی بن سکتی ہے اور وہ یہ سمجھ سکتا ہے اس وقت کہ یہ میرے لئے بہتر نہیں ہے۔مثلاً جیسا کہ میں نے مثال دی تھی کہ ایک گندگی کھانے والے کتنے کے لئے اس سے بہتر غذا بھی ہوسکتی ہے ہر چند کہ اسے اس گندگی میں لطف آ رہا ہے لیکن ہو سکتا ہے اس سے بہت بہتر غذا اس کی صحت کے لئے ہر لحاظ سے آپ مہیا کر دیں، تازہ گوشت مہیا کریں، دودھ مہیا کریں، اور چیزیں جو کتے کے لئے ضروری ہیں وہ مہیا کریں لیکن اس وقت اگر آپ اس کو ہٹائیں گے تو وہ آپ پر حملہ آور ہوگا۔یہی سلوک قو میں اپنے وقت کے انبیاء سے کیا کرتی ہیں وہ دنیا کی گندگیوں میں مگن