خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 456 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 456

خطبات طاہر جلدم 456 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء ( آگے مبینہ طور پر ڈیش ڈال کر گویا کہ فلاں شخص ہے ) فلاں معین شخصیت کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔“ ( قرطاس ابیض۔بھٹو کا دور حکومت جلد سوم صفحہ ۱۸۵) حیرت ہوتی ہے یہ سوچ کر یہ کسی عام مولوی کی زبان نہیں ہے عام مولوی تو اس قسم کی باتیں کرتے رہتے ہیں، یہ حکومت کے نمائندوں کی زبان ہے۔حکومت کی طرف سے اس کی مہر کے ساتھ شائع شدہ وائٹ پیپر ہے اس سے آپ اندازہ کریں کہ ان کے وائٹ پیپر کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ان کے اپنے اخلاق کیا ہیں، ان کے ناپنے کے پیمانے کیا ہیں۔شریعت کو کیا سمجھتے ہیں اور شریعت سے کس قسم کے گندے کھیل کھیلتے ہیں۔حیرت ہے کہ ایک طرف جن لوگوں کو گندے اور بد کردار سمجھتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا میں فیصلے پر فخر کر رہے ہیں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے سوسالہ مسئلہ حل کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور یہ کہ انہوں نے شریعت کا ایک عظیم الشان معرکہ مارا ہے جو بڑے بڑے علماء سے حل نہیں ہو سکا تھا۔اپوزیشن کے ایک اور ممبر کے متعلق لکھتے ہیں کہ خیال ہے اس نے معمولی باتوں پر بہت سے قتل کئے ہیں۔پھر لکھا ہے معتمدوں کے ذریعہ پرمٹ حاصل کرنے والے ، ایجنسیاں دلوانے والے، سمگلنگ کرنے اور کروانے والے، کسٹم حکام کے ساتھ ملوث (ان کسٹم حکام کے خلاف پھر کوئی کارروائی بھی نہیں کی گئی ) مبینہ طور پر عورتوں کے رسیا ہیں۔اس قدر کثرت کے ساتھ یہ گندے الزامات لگائے گئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے آخر ملک کی قومی اسمبلی تمام ملک کی نمائندہ ہوتی ہے۔اگر اس کا یہ حال ہو، اسے ساری دنیا میں مشتہر کیا جارہا ہو تو اس ملک کا باقی کیا رہ جاتا ہے پس یہ اس موجودہ حکومت کا کردار ہے جو بڑے فخر کے ساتھ آج ان لوگوں کے فیصلے کو دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے اور بھول گئی ہے کہ کل ہم نے ان کے بارے میں ایک White Paper شائع کیا تھا۔اسی پر بس نہیں کی اس قومی اسمبلی کے ممبران کے متعلق یہ بھی لکھا کہ ان میں سے بعض غیر ملکی طاقتوں سے روابط رکھنے والے تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ملک کے خلاف سازشیں کرنے والے اور موقع پرست لوگ ہیں اور فلاں فلاں شرابی ہے۔یہ ہے حال ان کی قومی جمعیت کا اور ان کی اکثریت کا جس میں حکومت کے لوگ بھی اس رنگ میں رنگین تھے جس کا اوپر بیان کیا گیا ہے اور