خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 455

خطبات طاہر جلدم 455 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء کروانے والے، اپنی عدالتیں لگا کر غریبوں کے مال لوٹنے والے بیواؤں اور یتیموں کا مال کھا جانے والے، صنعت کاروں سے بھاری رقوم جمع کر کے اور اسی طرح ٹھیکیدراوں سے بھاری رقوم وصول کر کے ان کے کام کروانے والے شرابی مجرمانہ ذہنیت کے حامل ، رسہ گیر اور بحری قزاق ہیں۔یہ وہ سارے لوگ ہیں جن کا ذکر خلاصہ میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور یہ پیپلز پارٹی کی اکثریت کی تصویر ہے جو قر طاس ابیض میں کھینچی گئی ہے۔اور جہاں تک اپوزیشن کے ممبران کا تعلق ہے خیال ہوسکتا ہے کہ وہ بچ گئے ہوں گے لیکن موجودہ حکومت کا خیال یہ ہے کہ اپوزیشن کے ممبر بھی اسی طرح گندے تھے جس طرح پیپلز پارٹی کے ممبر گندے تھے۔چنانچہ اس وائٹ پیپر میں جس کا ذکر ہو رہا ہے اپوزیشن کے کردار کے چند نمونے بھی پیش کئے گئے ہیں اور بتایا ہے کہ اپوزیشن کس قسم کی تھی۔لکھا ہے کہ: و شیخی اور لاف زنی کا رسیا خود کو پاکستان میں وزیر اعظم کی ٹکر کا واحد لیڈ رسمجھتا ہے انتہائی بے اصول اور بے ضمیر شخص ہے۔بدقسمتی سے ہماری عوامی زندگی میں لائق فائق لوگوں کی قلت کی وجہ سے وہ قومی سطح پر اپنی اہلیت سے زیادہ اہمیت حاصل کر گیا ہے۔“ ( قرطاس ابیض۔بھٹو کا دور حکومت جلد سوم صفحہ ۱۸۴) یعنی اکثریت کا وہ حال ہے اور اقلیت کا یہ حال ہے۔لکھتے ہیں کہ اس قدر قحط الرجال ہے کہ اکثریت تو گندی تھی ہی اقلیت میں بھی شرفاء نظر نہیں آرہے تھے اور چونکہ قحط الرجال ہے شرفاء کی قلت ہے اس لئے اس قسم کے گندے اور اوباش لوگ قومی زندگی پر ابھر آئے۔ایک اور نمونہ پیش کر کے لکھا ہے: اس کی باغیانہ اور ہیجانی طبیعت کے لئے کسی کی طرف سے تحکم اور اختیار آفرینی تازیانہ ثابت ہوتی ہے اور خطرہ کا نشان بن جاتی ہے۔بدکاری اور ناجائز تعلقات کے الزامات میں ملوث ہے ایک اور اپوزیشن کے ممبر کا حال لکھتے ہیں: مالی لحاظ سے کمزور، لالچی ، شیخی خوردہ ، سستی شہرت کی طرف راغب