خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 457 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 457

خطبات طاہر جلد۴ 457 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء اپوزیشن کے لوگ بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے گویا یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے تھے اور اس تھیلی کا نام انہوں نے اجماع رکھ دیا ہے۔کہتے ہیں امت مسلمہ کا عظیم الشان اجماع ہوا جس کا نام سواداعظم رکھ دیا۔اناللہ وانا اليه راجعون۔یہ سب کچھ درست تھا یا غلط تھا۔یہ سوال ہے کہ جن کے متعلق تم یہ الزام لگا چکے ہو ان کے فیصلے کو اجماع کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ان کو آنحضرت علی کی طرف منسوب کرتے ہوئے حیا آنی چاہئے تھی، غیرت آنی چاہئے تھی۔انہوں نے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے سبق سیکھا ہوتا مگر ان لوگوں نے تو اخلاق اور غیرت کے سبق کبھی پڑھے ہی نہیں۔حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ اشرفیوں کی صورت میں بھاری رقم ایک تھیلی میں لے جارہے تھے، کشتی میں سوار ہوئے تو کسی شخص کو پہلے سے پتہ چل گیا کہ ان کے پاس اتنی اشرفیاں ہیں، وہ سراغ لگا تا ہوا پیچھا کر رہا تھا جب وہ کشتی میں بیٹھے تو اس نے اچانک پیچ میں پہنچ کر شور مچا دیا کہ میری تو اشرفیوں کی تھیلی چوری ہو گئی ہے اور اس میں اتنی اشرفیاں موجود ہیں۔خیر جو بھی کشتی کا سردار تھا اس نے حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔تلاشی ہوئی تو کسی کے پاس سے بھی اشرفیوں کی ایسی تھیلی نہ نکلی۔حضرت امام بخاری کے پاس بھی نہ تھی۔وہ شخص یقین رکھتا تھا کہ ان کے پاس تھیلی تھی اسی لئے اس نے بڑے تعجب سے بعد میں علیحدہ ہو کر کہا کہ تھا تو یہ جھوٹا الزام مجھے پتہ ہے لیکن مجھے یہ تو بتا دیں وہ تھیلی گئی کہاں۔حضرت امام بخاری نے فرمایا میں نے تو وہ دریا میں غرق کر دی تھی۔کیوں غرق کر دی تھی ؟ اس لئے غرق کر دی تھی کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اقوال کا محافظ ہوں ، میں یہ بھی پسند نہیں کرتا تھا کہ میری ذات پر ایک دفعہ الزام لگ جائے کہ اس نے خود بد دیانتی کی ،اتنے عظیم آقا اور اتنے عظیم امین کے اقوال کا محافظ ہوا ور داغدار ہو جائے۔میں تو ہرگز یہ پسند نہیں کرتا اشرفیوں کی میرے سامنے کیا حیثیت ہے۔یہ ہیں وہ لوگ جو سچے عشاق تھے حضرت محمد مصطفی ﷺ اور اسلام کے انہوں نے ایک کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کی اور وہ ساری کمائی جو پتہ نہیں کتنے وقت کی کمائی تھی اور کتنی محنت سے کمائی تھی اپنے ہاتھ سے ڈبودی مگر آنحضرت معہ کے نام اور آپ کی حدیثوں پر حرف نہیں آنے دیا اور اس بات کا موقع نہ دیا کہ کوئی شخص آنحضور کے غلام کے کردار پر انگی اٹھا سکے۔