خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 454
خطبات طاہر جلدم 454 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء یہ ہے اس قومی اسمبلی کے بڑے بڑے چوٹی کے راہنماؤں کا حال جنہوں نے جماعت احمدیہ کے خلاف غیر مسلم کا فتویٰ دیا ہے اور جس فتویٰ کو یہ لوگ فخر کے ساتھ آج دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔پھر ایک اور صاحب کے متعلق بتاتے ہیں کہ مبینہ طور پر ۱۹۷ء کے انتخابات کے بعد دولت حاصل کی ہے، ان کا خاص معتمد ایک خطر ناک سمگلر ہے۔( قرطاس ابیض۔بھٹو کا دورحکومت جلد سوم صفحہ ۱۸۳) پھر ایک اور صاحب کے متعلق کہا گیا ہے کہ اپنی نو جوانی کے دور سے ہی آزادانہ جنسی تعلقات ان کے کردار کے آئینہ دار ہیں۔وہ جنسی کج روی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔بڑی بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ شادیاں کرتے اور بیویوں کو طلاق دیتے ہیں اور انہیں بازارحسن کی زینت بننے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔اندازہ کریں ایک حکومت کی طرف سے ایک وائٹ پیپر شائع ہو رہا ہے جس میں اپنے ملک کے شہریوں کی کردار کشی میں اس قدر دریدہ دہنی سے کام لیا گیا ہے جو نہایت افسوسناک اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے۔مطلقہ بیویوں کے متعلق یہ کہنا کہ ان کو بازارحسن کی زینت بنانے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں پاکستان کی خواتین کے حق میں یہ الفاظ دراصل انتہائی گندے اور بھیانک الزامات ہیں اور اگر اسلامی حکومت قائم ہو تو یقیناً اس کے ذمہ دار افراد کو اسی اسی (۸۰،۸۰) کوڑوں کی سزاملنی چاہئے لیکن قطع نظر اس کے کہ حقیقتیں کیا ہیں جب تک انہیں ان باتوں پر یقین نہ ہوتا اس وقت تک یہ بے وجہ لکھ نہیں سکتے تھے۔یہ لوگ خود جو باتیں مانتے ہیں یا کئی باتیں ان کے علم میں آتی ہیں ہمیں اس سے بحث نہیں ہم تو صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جس اسمبلی کے ممبروں پر تم لوگ آج فخر کر رہے ہو کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دیا اور سوسالہ مسئلہ حل کیا اس کی اپنی اسلامی حیثیت تمہارے نزدیک کیا تھی۔یہی نہیں مزید لکھا ہے کہ یہ لوگ قاتل بھی ہیں اور قاتلوں کی حمایت کرنے والے بھی۔ایک تو قتل کرنے والوں کو ہر طرح کی مدد دیتے ان کے معاملات کو رفع دفع کرواتے ہیں۔پھر ان کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ پستول اور دیگر اسلحہ جات کے لائسنس نا جائز طور پر جاری