خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 453 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 453

خطبات طاہر جلدم 453 خطبه جمعه ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء ان لوگوں کا کام ہے جن کے پاس طاقت نہیں ہوتی ، جو حکومت پر قابض نہیں ہوتے بے اختیار ہوتے ہیں وہ الزام لگا کر اور طعنے دے کر دل کے غصے نکالتے ہیں۔حکومتوں کے یہ کام نہیں ہوتے اس لئے موجودہ حکومت کو وقار کے ساتھ باقاعدہ عدالتوں میں جانا چاہئے تھا اور پھر عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق عمل درآمد کروانا چاہئے تھا مگر بہر حال جہاں تک اس حکومت کا تعلق ہے یہ کامل طور پر یقین رکھتی ہے کہ ۷۴ ء کی قومی اسمبلی میں نہایت گندے اور بھیا نک کردار کے لوگ تھے اور ان کو اسلام کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں۔جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے جو قو می اسمبلی میں بھی بھاری اکثریت رکھتی تھی۔اس کے مرکزی وزراء ، صوبائی وزراء، قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کے نام لئے بغیر جو خا کے کھینچے گئے ہیں۔وہ ذرا سننے سے تعلق رکھتے ہیں۔چونکہ نام کسی کا نہیں لیا گیا اس لئے میں اس بارہ میں زیادہ جھجک محسوس نہیں کرتا کہ آپ کو سنا دوں اگر چہ الزامات ایسے ہیں کہ اسلامی شریعت کے مطابق ان الزامات لگانے والوں اور ان کی تشہیر کرنے والوں کو کم سے کم اسی کوڑوں کی سزاملنی چاہئے کیونکہ اگر موجودہ حکومت اسلامی شریعت کی حمایت کا دعویٰ کرتی رہی ہے تو اسے اسلامی قوانین دوسروں پر نافذ کرنے سے پہلے خود پر نافذ کرنا چاہئے تھا۔اگر کسی شخص کے متعلق اسلامی حکومت میں وہ الزامات عائد کئے جائیں جن کا ذکر وائٹ پیپر میں ملتا ہے تو جب تک باقاعدہ عدالت میں چار گواہوں کے ساتھ معاملہ پیش کر کے الزام واضح طور پر ثابت نہ کیا جائے اس وقت تک اسلامی حکومت کے تابع الزام لگانے والوں کو اسی اسی کوڑوں کی سزاملنی چاہئے لیکن بہر حال حکومت کے نزدیک پیپلز پارٹی کے اراکین کی مذہبی حیثیت یہ ہے، لکھتے ہیں: شراب اور شباب کے رسیا اور ان اطلاعات کے مطابق ایک نہایت گندہ لفظ ہے ) اس کی لعنت میں بھی مبتلا ہیں۔وفد کے ساتھ واپس آتے ہوئے ایئر ہوسٹس سے وسکی کی دو بوتلیں طلب کیں اور جب ایئر ہوسٹس نے بوتلیں فراہم کر دیں تو اس نے ایئر ہوسٹس پر دست درازی کی کوشش کی لیکن انہیں جھڑک دیا گیا۔وغیرہ وغیرہ ( قرطاس ابیض۔بھٹو کا دور حکومت جلد سوم صفحه ۱۸۲)