خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 451 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 451

خطبات طاہر جلدم 451 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء سواداعظم کا ذکر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔چنانچہ چوٹی کے علماء اور بزرگان سلف حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے لے کر آج تک کے علماء اس بارہ میں کھلم کھلا اس بات کا اظہار فرما چکے ہیں کہ جہاں تک حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کے بیان فرمودہ سواداعظم کا تعلق ہے اس کا یہ معنی غلط ہے کہ اگر علماء یا عوام کی بھاری اکثریت ایک طرف ہو جائے تو وہ سواد اعظم ہے اور یہ کہ جس بات کے حق میں وہ ہوں وہ درست ہوگی۔اس کے برعکس حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اگر تو اکیلا ہے اور حق پر قائم ہے تو تو ہی پیروی کے لائق ہے۔باقی سب اکثریت رد کرنے کے لائق ہے۔حضرت امام رازی، حضرت امام ابن تیمیہ اور حضرت امام ابن قیم اور ایسے ہی کئی اور ربانی علماء ہیں جن کی کثرت ہے۔وہ اس سوال کو یکے بعد دیگرے اٹھاتے چلے جاتے ہیں اور واضح کرتے چلے جاتے ہیں کہ حق کی پہچان میں عددی اکثریت کو کوئی حیثیت حاصل نہیں۔وہ کھل کر یہ لکھتے چلے جاتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اکیلا ہے مگر وہ حق پر قائم ہے تو وہی سواد اعظم کہلانے کا مستحق ہے۔باقی کوئی سواد اعظم نہیں ہے اس کے باوجود مخالفین کا یہ ڈھنڈورا پیٹنا کہ چونکہ ہمیں عددی اکثریت حاصل ہے اور جماعت احمد یہ ایک معمولی اقلیت ہے اس لئے ایک عظیم اجماع ہو گیا ہے جسے اسلامی سند حاصل ہے۔یہ بات بالکل درست نہیں ہے۔اس سلسلہ میں چونکہ حوالے بہت زیادہ تھے وہ میں نے فی الحال چھوڑ دیئے ہیں۔چند حوالے بعد میں آپ کے سامنے پیش کروں گا لیکن اس سے پہلے میں احباب کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جس قومی اسمبلی کی اکثریت پر یہ نازاں ہیں، جس قومی اسمبلی کے فیصلے کو شرعی سند کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اس قومی اسمبلی کے متعلق بھی ایک وائٹ پیپر ( قرطاس ابیض ) شائع ہو چکا ہے۔جو موجودہ حکومت نے شائع کیا تھا۔دیکھنا یہ ہے کہ اس قومی اسمبلی کی اکثریت کے متعلق ان کی رائے کیا ہے ، وہ میں آپ کو سنا تا ہوں یعنی جس قومی اسمبلی کی اتفاق رائے کو شریعت کی بنیا دقرار دیا جارہا ہے اس کا اپنا کیا حال تھا۔اس کے متعلق ان کے وائٹ پیپر میں ان کی داستان پڑھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔میں اس کو مضمون کے لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں۔پہلا حصہ بھٹو صاحب اور ان کے چیدہ چیدہ وزراء سے خاص ہے۔اس حصہ میں نام بنام ان کے کردار ان کی اسلامی حیثیت ان کے اخلاق اور ان کے اعمال کا تذکرہ چھیڑا گیا ہے، نہایت ہی بھیانک داستان ہے۔جن کے سرا تناعظیم