خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 450

خطبات طاہر جلدم 450 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء کتاب اتاری گئی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب ( یعنی محمد کے رب) کی طرف سے حق کے ساتھ اتاری گئی ہے فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ پس اے مخاطب تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَ عَدْلًا اور انصاف کے لحاظ سے تیرے رب کا کلام درجہ کمال کو پہنچ گیا ہے، تَمَّت کا مطلب ہے کہ اس پر بات ختم ہو گئی ہے لَا مُبَدِّلَ لِگلمتے اور ان کلمات کو کوئی تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور یہ کبھی تبدیل نہیں ہوں گے اور اللہ بہت دیکھنے والا ہے اور بہت جاننے والا ہے جہاں تک اکثریت کا تعلق ہے فرمایا وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ اگر تو زمین میں اکثریت رکھنے والوں کی پیروی کرے گا تو یقیناً وہ تمہیں اللہ کی راہ سے گمراہ کر دیں گئے وہ تو ظن کے سوا اور کسی بات کی پیروی نہیں کرتے ، تو ہمات کے پیروکار ہیں اور محض اٹکل پچو سے باتیں کرنے والے لوگ ہیں۔ہاں اے رسول ! تیرا رب سب سے زیادہ جانتا ہے کہ کون اس کے رستے سے گمراہ ہے اور کون ہدایت یافتہ ہے۔قرآن کریم کی ان آیات میں بھی اور بہت سی دیگر آیات میں بھی یہ بات بڑی وضاحت کےساتھ بیان کی گئی ہے کہ جہاں تک حق و باطل میں تمیز کا تعلق ہے اور سچ اور جھوٹ میں فیصلے کا تعلق ہے عددی اکثریت کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ بسا اوقات عددی اکثریت غلطی پر ہوتی ہے۔چنانچہ بیشتر اوقات یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر اکثریت کی پیروی کی جائے تو انسان گمراہ ہو جاتا ہے اور محض عددی اکثریت کی بناء پر کسی چیز کو حق تسلیم کر لینا ایک بہت بڑی غلطی ہے۔حق و باطل کی تمیز کے اور ذرائع ہیں مگر حکومت پاکستان کی طرف سے جو مزعومہ قرطاس ابیض شائع ہوا ہے۔اس میں سب سے آخری بات جو بڑے فخر کے ساتھ پیش کی گئی ہے وہ یہی عددی اکثریت ہے جس کا ڈھول پیٹا گیا ہے اور تمام دنیا میں بڑے فخر کے ساتھ اس بات کو اچھالا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف تو ہماری عددی اکثریت تھی، عوام کی اکثریت تھی، قومی اسمبلی کی اکثریت تھی بلکہ اکثریت ہی نہیں جماعت کے خلاف اجماع ہو چکا تھا اور سو سال کا یہ مسئلہ جو اٹکا ہوا تھا قومی اسمبلی نے اسے بالا تفاق طے کر دیا اس لئے ان کے جھوٹے ہونے کے لئے اس کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔امر واقعہ یہ ہے کہ کسی بات پر علماءکا یا عوام کا متفق ہو جانا ہرگز وہ سواد اعظم نہیں کہلا سکتا جس