خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 452 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 452

خطبات طاہر جلدم 452 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۸۵ء الشان سہرا باندھا جا تا تھا ان کی اپنی اسلامی حالت کو جس طرح اسی حکومت نے (جس نے ہمارے خلاف یہ رسالہ شائع کیا ہے) کھول کھول کر بیان کیا ہے وہ تو تفصیل کے ساتھ میں آپ کے سامنے پیش بھی نہیں کر سکتا۔بعض ایسی باتیں ہیں کہ پڑھتے پڑھتے شرم آنے لگتی ہے۔بعض کیا اکثر ایسی باتیں ہیں لیکن بہر حال چند نمونے مجھے مجبوراً پیش کرنے پڑیں گے۔جہاں تک ان باتوں کا تعلق ہے جو نام بنام بیان کی گئیں ہیں۔میں ان کی تفصیل بیان نہیں کرنا چاہتا کیونکہ بہت سے لوگ ان میں سے زندہ موجود ہیں اور ان کے متعلق اگر میں نام بنام ان باتوں کو شہرت دوں تو گویا میں خود بھی صاد کرنے والا بن جاؤں گا۔مجھے اصولی طور پر اس طریق سے اختلاف ہے۔میں یہ پسند نہیں کرتا کہ دنیا میں کوئی بھی حکومت اپنے شہریوں کی کسی بھی پہلو سے کردار کشی کرے۔اگر ان لوگوں میں یعنی موجودہ حکومت میں شرافت ہوتی ، انسانیت ہوتی تو ان کا کام یہ تھا کہ ان کے نزدیک جو لوگ مجرم تھے ان کے خلاف کھلی عدالتوں میں عدالتی چارہ جوئی کرتے ان پر مقدمے چلتے اور پھر عدالت کے جو فیصلے ہوتے وہ دنیا کے سامنے پیش کئے جاسکتے تھے اگر چہ بعض اوقات دباؤ کے تحت کئے گئے عدالتی فیصلے بھی اپنی حیثیت کھو دیا کرتے ہیں لیکن بہر حال یہ ایک شکل تھی جو مہذب دنیا کو کسی نہ کسی رنگ میں قابل قبول ہو سکتی تھی۔مگر حکومت پر قابض لوگ اپنے شہریوں پر مقدمہ چلانے کی بجائے ان کی کردار کشی شروع کر دیں ان کے متعلق نہایت گندے الزامات لگانے شروع کر دیں اس بات کا میں تو قائل نہیں ہوں اس لئے نام بنام دی گئی تفصیل کو میں نہیں پڑھ سکتا لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وائٹ پیپر کے اس حصہ میں بھٹو صاحب کے علا وہ مولوی کوثر نیازی صاحب ( سابق وزیر حج۔ویلفیئر فنڈ۔اوقاف فنڈ اور مذہبی امور ) سرفہرست ہیں پھر ممتاز بھٹو صاحب ہیں جو بھٹو صاحب کے چا زاد بھائی ہیں اور وہ بھی زندہ موجود ہیں پھر غلام مصطفیٰ کھر ہیں یہ بھی اس فہرست میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، پھر صادق حسین صاحب قریشی کا نام بھی خاص طور پر نمایاں پیش کیا گیا ہے پھر نصر اللہ خان خٹک صاحب ہیں، پھر عبد الوحید صاحب کپر ہیں، پھر جام صادق علی صاحب ہیں۔یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے نام لکھ کر ان کے متعلق نہایت گندے اور بھیا نک الزامات لگائے گئے ہیں حالانکہ جائز طریق یہ ہے کہ جب تم حکومت پر قابض ہو جاؤ تو تمہاراحق ہے کہ تم مقدمے کرو، عدالت میں جاؤ اور پھر عدالت کے فیصلوں کے مطابق کارروائی کرو۔الزام تراشیاں تو