خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 444
خطبات طاہر جلد۴ 444 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء ساتھ کہ دین اس پر غالب رہے۔یہ ایک خاص وقت آگیا ہے اسکے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ بڑی کثرت کے ساتھ جماعت کو دنیا میں پھیلا دے گا اور دنیا کی ہر قوم کے اوپر، دنیا کے ہر دین پر حضرت محمد مصطفی امیہ کی قوم اور آپ ہی کے دین کو غالب فرما دے گا۔پس یہ جمعہ اس لحاظ سے بھی ہمارے لئے اہمیت رکھتا ہے کہ ہم آج اس جمعہ پر یہ عہد کریں گے اس جمعہ پر یہ ارادے لے کر پھر دنیا میں پھیلیں گے۔اگر خدا کا منشاء اس کشفی نظارے سے یہی ہے کہ جماعت سے مزید قربانی چاہتا ہے، جماعت احمدیہ کو اپنی مزید قربانی پیش کرنے کی ہدایت فرمارہا ہے تو ہم حاضر ہیں اس کے لئے بھی جو ہم سے چاہتا ہے ہم حاضر ہیں ہمارا کچھ بھی اپنا نہیں۔ہم اسی کی خاطر زندہ رہیں گے اور اسی کی خاطر مریں گے لیکن اپنے اس عہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے کہ جب تک تمام دنیا پر محمد مصطفی ﷺ کی بادشاہی کو غالب نہ کر دیں اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔اب ایک ملک نہیں ہے جس کو ہم نے اسلام کے لئے فتح کرنا ہے، دو چار یا پچاس یا سو ملک نہیں ہیں، ساری دنیا میں ایک بھی ملک ایسا نہیں چھوڑ نا جہاں ہم نے اسلام کو غالب کر کے نہیں دکھانا۔کوئی ملک بھی ایسا نہیں رہنے دینا جس کے ہر حصہ پر اسلام کو غالب نہیں کرنا ، اتنے بڑے کام کو ہم نے سرانجام دینا ہے۔اب آپ سوچیں تو سہی کہ سکاٹ لینڈ کی وسعتوں کے نقطہ نگاہ سے ہم نے یہ کام کیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے تاکید کی ضرورت ہے اس لئے آپ کو یاد دہانی کروائی جاتی ہے۔بیسیوں سال سے یہاں احمدی آباد ہیں ایک دو چار کم و بیش کبھی کم ہوئے کبھی زیادہ لیکن یہ سارا علاقہ اسی طرح پڑا ہوا ہے جس طرح کسی زمین پر بل نہ چلایا گیا ہوFallow Land کے طور پر۔ابھی تک اسکی وادیاں بھی محمد مصطفی ﷺ کے نام سے بے خبر ہیں،اسکے پہاڑوں کی چوٹیاں بھی بے خبر ہیں ، اس کی جھیلیں بھی بے خبر ہیں اور اس کی خسگیاں بھی بے خبر ہیں۔آج آپ سکاٹ لینڈ کے کسی کونے میں چلے جائیں اور ان سے پوچھیں کہ اسلام کیا ہے اور محمد مصطفی ﷺ کا دین کیا ہے تو ان کو پتہ ہی نہیں ہو گا۔اس لئے یہ بلند ارادے تو بہت بابرکت ہیں لیکن یہ بلند ارادے جس محنت کا تقاضا کرتے ہیں وہ محنت ہم نے ابھی شروع نہیں کی۔آپ میں سے اکثریت ابھی تک ایسی ہے جو بار بار کی یادہانیوں کے باوجود داعی الی اللہ نہیں بن سکی۔اکثریت ایسی ہے جو اگر بنا چاہتی بھی ہے تو جانتی نہیں کہ کیسے بنے۔ان کو سلیقہ نہیں آتا ،