خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 443 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 443

خطبات طاہر جلدم 443 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء دسویں آیت مراد لی جائے تو اس میں ایک بہت بڑی خوشخبری یہ ہمیں ملتی ہے کہ وہ وقت بطور خاص آ گیا ہے جبکہ آپ نے دنیا کو کلیۂ ترک کرنے کے فیصلے کر لینے ہیں، جب اپنے عزم دہرانے ہیں، جب اس عہد بیعت کی تجدید کرنی ہے کہ ہم ہر گز کسی قیمت پر بھی اپنی دنیا کو اپنے دین کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔جہاں تک ہمارے نفوس کا تعلق ہے ہم سب کچھ چھوڑ بیٹھے ہیں اگر ہمیں اجازت ملتی ہے تو ہم دوسرے کام بھی کریں گے مگر اس عہد کے ساتھ کہ دوسرے کاموں پر ذکر الہی کو ہمیشہ غالب رکھیں گے۔کثرت کے ساتھ ذکر کرتے چلے جائیں گے اور خدا کے فضل کی تلاش کرتے چلے جائیں گے۔اب ذکر کے ساتھ جب آپ خدا کے فضل کے مضمون کو ملاتے ہیں تو فضل کا مضمون عام دنیاوی معنوں کے سوا دوسرے معنی بھی اختیار کر لیتا ہے۔وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ کا حکم عام دنیا کے انسانوں پر بھی لگتا ہے۔اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ دنیا کی چیزیں تلاش کرو، دنیا کے رزق تلاش کرو، دنیا کے عہدے تلاش کرو، دنیا کی ترقیات تلاش کرو لیکن جب خدا کے بعض بندے ذکر الہی کو ساتھ شامل کر لیتے ہیں تو وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا کے ساتھ اس فضل کا مضمون وسیع ہو جاتا ہے۔اس صورت میں اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس دنیا میں ہی اپنے دین کی سعادتیں بھی ڈھونڈ لو، اسی دنیا میں اپنے بلند دینی اور روحانی مراتب بھی تلاش کرو کیونکہ تم ذکر الہی ساتھ ساتھ کرتے چلے جارہے ہو۔خدا کا فضل محمد و صورت میں تم پر نازل نہیں ہوگا۔تم بظاہر دنیا کمانے والوں میں سے بھی خدا کے ولی پیدا ہو نگے تم بظاہر دنیا کمانے والوں میں سے عظیم الشان روحانی بندے پیدا ہوں گے۔تم بظاہر دنیا کمانے والوں میں سے خدا کے ایسے ایسے پیارے پیدا ہوں گے کہ ان کو وہ ساری دنیا پر ترجیح دے گا ، اپنے علاقے کے قطب وغوث اور ولی پیدا ہوں گے۔اگر وہ ذکر الہی کو کثرت سے ادا کرنے کے عہد پر پورا اترتے ہیں تو ان کا فضل لا متناہی ہو جائے گا ، جو فضل وہ تلاش کرتے ہیں وہ محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کی حدیں پھیل جائیں گی، دنیا پر بھی پھیل جائیں گی اور دین پر بھی پھیل جائیں گی۔اس نقطہ نگاہ سے آپ اللہ تعالیٰ کے اس منشا کو پورا کرنے کی سعی کریں منشائے الہی یہ ہے کہ آج جماعت جس دور میں داخل ہوئی ہے اس میں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ کر کثرت کے ساتھ ہمیں اپنی طاقتوں کو اور اپنے ان تمام قومی کو جسمانی یا روحانی یا ذہنی قومی ہوں ان ساری طاقتوں کو جو خدا نے ہمیں عطا فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ کی خاطر وقف کر دیں، دنیا کمائیں اس شرط کے