خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 438
خطبات طاہر جلدم 438 خطبه جمعه ۱۰ارمئی ۱۹۸۵ء ایک خوشخبری کو ایک سے زیادہ رنگ میں بھی پورا کر دیتا ہے۔بہر حال جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ سورۃ جمعہ کے ساتھ تو جماعت احمدیہ کا بہت گہرا تعلق ہے اتنا گہرا تعلق ہے کہ کسی اور سورت سے جماعت احمدیہ کا براہ راست اتنا گہرا تعلق نہیں ہے کیونکہ اس میں آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ کا ذکر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ پوری ہوئی۔وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کا ذکر ہے ان آخرین کا جو صحابہ سے نہیں ملے تھے لیکن ایک دن انہوں نے مل جانا تھا، اس مضمون کا ذکر ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں بیان فرماتے ہیں: ع صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا ( در تین صفحه : ۵۶) اس مصرعہ کی بنیاد بھی اسی سورۃ جمعہ پر ہے۔چنانچہ جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ سورہ جمعہ تو جماعت احمدیہ کے ساتھ بہت گہرا تعلق رکھتی ہے۔نہ صرف ایک عام تعلق بلکہ کئی رنگ میں تعلق رکھتے ہے اس لیے اگر وہاں ( کشف میں ) میں سے سورہ جمعہ مراد ہو اور سے مراد دسویں آیت ہو تو یہ کوئی بعید کی بات نہیں ہے۔یہ حض کوئی ذوقی نکتہ نہیں بلکہ ایک گہرا عارفانہ نکتہ ہے۔سورہ جمعہ کے تعلق کو آپ دیکھیں تو اس سلسلہ میں سب پہلے آپ کو لفظ جمعہ پر غور کرنا ہوگا۔جمعہ دراصل اجتماع یعنی اکٹھے ہونے کو کہتے ہیں۔اس میں جمع کا مضمون پایا جاتا ہے۔یہ وہ سورت ہے جس میں کئی قسم کی جمعیں اکٹھی ہو گئیں اور جیسا کہ میں نے آپکو بتایا ہے جمعہ کے ساتھ فضل بھی وابستہ ہیں اور وہ فضل کیا کیا ہیں ؟ اس کی ادنی شکلیں بھی خدا تعالیٰ نے سورہ جمعہ میں بیان فرما دی ہیں اور اعلی شکلیں بھی۔اور یہ سورہ ان سارے فضلوں کو بھی جمع کرنے والی ہے۔اس میں جمع کی کئی شکلیں موجود ہیں مثلاً وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللہ کا ایک عام معنی یہ ہے کہ جب تجارت چھوڑ کر خدا کے ذکر کے لئے اکٹھے ہو تو ذکر کے بعد دوبارہ تجارتیں شروع کر دو تو تمہیں ان میں فائدہ پہنچے گا ، اللہ فضل عطا فرمائیگا اور ایک اور فضل کا بھی اس میں ذکر ہے، یہ انتہائی فضل ہے جسے فضل نبوت کہا جاتا ہے۔چنانچہ بعثت ثانیہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ذلِكَ فَضْلُ اللهِ