خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 437
خطبات طاہر جلدم 437 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء کرے اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ اسی مئی کی دسویں کو وہ خوشخبری کا دن بنادے لیکن جہاں تک نظارے کا تعلق ہے میں نے جود دیکھا بعینہ وہی آپ کو کھول کر بتادیا ہے۔اس سے کیا مطلب ہے اسکی تعبیر کیا ہو سکتی ہے یہ سوچنے والی باتیں ہیں لیکن تعبیر پر بناء رکھتے ہوئے کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔اسی تعبیر کے تعلق میں کسی نے تو یہ لکھا کہ سال کا نہ ہونا ایک انذار کا پہلو بھی رکھتا ہے۔دیکھئے جتنے دماغ ہیں وہ مختلف رنگ میں کام کرتے ہیں۔پھر انہوں نے کہا کہ مجھے تو یہ ڈر ہے کہ آپکی واپسی پر کئی سال لگیں گے ورنہ خدا تعالیٰ جس طرح بعض اوقات بتا دیتا ہے کہ چند سالوں میں یہ واقعہ ہوگا یا فلاں سال ہوگا اس کی بجائے دن بتا دیا ہے اور سال کا اخفاء رکھ لیا ہے تو یہ طریق ہے یہ بتانے کا کہ ابھی کچھ وقت لگے گا تا کہ صدمہ نہ پہنچے۔اس لئے بڑی نرمی سے آپ کو بتایا گیا ہے جس طرح کہ ایک پیار کرنے والی ماں بچے کو کوئی خبر دیتی ہے اس طرح آپ کو یہ خبر دی گئی ہے لیکن اخفا کے ساتھ اب ایک دماغ اس طرف بھی چلا گیا۔جو سب سے زیادہ دلچسپ اور عرفان کا پہلور رکھنے والی تعبیر مجھے ملی ہے۔وہ لاہور کے ایک دوست کی ہے جو بڑے ذہین اور فہیم انسان ہیں اور ایسے معاملات پر غور کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے مجھے یہ لکھا کہ میں نے بہت غور کیا ہے اور میری توجہ اس طرف گئی ہے کہ یہاں نہ ظاہری تاریخ کا ذکر ہے اور نہ ظاہری جمعہ کا ذکر بلکہ سورۃ جمعہ کا ذکر ہے اور سورۂ جمعہ کی دسویں آیت بتائی گئی ہے۔FRIDAY انگریزی میں جمعہ کا نام ہے اور Verse ,The 10th ( آیت) کو بھی کہہ سکتے ہیں اور چونکہ سورہ جمعہ بارہ آیات پر مشتمل ہے اس لئے یہ گھڑی کے ساتھ عین مطابقت کھاتی ہے کیونکہ اس کے بھی بارہ اعداد ہوتے ہیں اور اگر دسویں آیت دکھائی مقصود ہو تو توجہ مبذول کروانے کے لئے گھڑی کا دسواں حصہ روشن دکھایا جائے گا۔تو انہوں نے کہا یہ با قاعدہ ٹیلی کر رہا ہے ورنہ گھڑی کی صورت میں تاریخ دکھانے کی کوئی سمجھ نہیں آتی۔اگر تاریخ مراد ہو تو ایک تعبیر یہ بھی کی گئی۔میں نے جب غور کیا تو اس میں مجھے کافی گہرائی نظر آتی ہے اگر چہ آپ کی طرح میری خواہش بھی یہی ہے کہ کسی معین تاریخ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے غیر معمولی نشان ظاہر ہو اور پھر اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ ان لوگوں کے لئے بھی جو کم فہم ہیں اور ظاہری چیزوں کو دیکھنا چاہتے ہیں ہدایت کو قبول کرنے کا رستہ پیدا کر دے۔یہ خواہش تو میری بھی ہے اور تعبیر کا یہ پہلو بھی قابل غور ضرور ہے کیونکہ بعض دفعہ خدا تعالیٰ