خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 439 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 439

خطبات طاہر جلدم 439 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ یہ جو آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ کا ذکر ہے فرمایا یہ اللہ کا فضل ہوگا اور وہ فضل جسے چاہے گا عطا فرمائیگا اور خدا تعالیٰ عظیم فضلوں والا ہے۔تو فضل کے دو کنارے بیان فرما دیئے ایک عام فضل جو دنیا کی تجارتوں کے ذریعے دنیا کے رزق کی صورت میں انسان کو ملتا ہے ، ایک وہ فضل جس کی انتہا نبوت ہے اور ان سارے فضلوں کو سورہ جمعہ نے اپنی ذات میں اکٹھا کر لیا دونوں کا ذکر فرما دیا۔پھر سورہ جمعہ کے ذریعے تمام دنیا کا اجتماع جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے جھنڈے تلے ہونا ہے ، سورہ جمعہ کے ذریعے اس کی خوشخبری بھی دے دی گئی۔کیونکہ مفسرین کی بھاری اکثریت یہ تسلیم کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو یہ وعدہ دیا تھا کہ وہ تمام دنیا کے ادیان پر محمد رسول اللہ ﷺ کے دین کو غالب کر دیگا ، یہ وعدہ مسیح اور مہدی کے زمانے میں پورا ہونا ہے اور اس سورت میں جب آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ کا ذکر آیا تو وہ مہدی کی شکل میں ہی آیا ہے۔پس یہ سورت عجیب طور پر جمع کے مضمون کو جمع کر رہی ہے۔مہدی کے ذریعے تمام عالم کو جمع کیا جائیگا اور وہ جو وہ تحریک چلائے گا اس کے ذریعہ اس کا بھی اس سورت میں ذکر موجود ہے اور زمانوں کو بھی جمع کر دیا جائے گا۔تیرہ سو سال کے فاصلے بیچ میں حائل ہو نگے لیکن ایک عجیب واقعہ ہوگا کہ اگلا زمانہ پچھلے زمانے سے جمع ہو گا۔خدا تعالیٰ کے ہر قسم کے فضل جمع ہونگے اس زمانے میں دنیاوی ترقیات بھی اتنی عظیم الشان ہونگیں کہ انہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جائیگی۔رزق کی بھی ایسی فراوانی ہوگی کہ حیرت ہوگی کہ انسان کو اتنا وسیع رزق بھی مل سکتا ہے اور بعض فضل ڈھونڈنے والے اپنے فضل کے تصور کی انتہا یہی سمجھیں گے کہ بس یہ دنیا کا رزق مل گیا ہے یہی اللہ کا فضل ہے اور کچھ اور لوگ ہونگے جو رضائے باری تعالیٰ کو فضل سمجھیں گے اور اس طرف ابتغاء کرینگے اور دنیا کے رزق کو چھوڑ دیں گے اور اب خدا کے فضل کو اس کی رضا میں ڈھونڈیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی راہ میں کوئی روک نہیں رکھے گا۔ان پر بھی بے انتہا فضل نازل فرماتا چلا جائے گا یہاں تک کہ ان میں سے ایسے بھی ہونگے جو محد مصطفی ﷺ کے غلام کامل کا درجہ پالینگے اور انہیں مہدویت اور مسیحیت عطا ہوگی اور پھر خدا تعالیٰ ان کا ذکر کر کے فرماتا ہے ذلِكَ فَضْلُ اللهِ اے فضل کے ڈھونڈ نے والو! اے فضل کے متلاشیو! یہ ہوتا ہے فضل تم کیوں ادنی ادنی باتوں پر راضی ہو گئے۔تم کیوں دنیا کی نعمتوں کو فضل قرار دے کر اس سے تسلی پاگئے ہو۔فضل کا ایک یہ بھی مفہوم ہے ایک یہ بھی بلندی ہے ، اسکی طرف بھی تو دیکھو