خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 37

خطبات طاہر جلدم 37 خطبه جمعه ۱۸/جنوری ۱۹۸۵ء والے خدا کی پکڑ کے نیچے آتے رہے اور بسا اوقات اپنی بستیوں سمیت اپنے علاقوں سمیت ہلاک ہو جاتے رہے اور پھر اچانک اس کے بعد یہ فرمانا کہ کیا تم نے بادلوں کو نہیں دیکھا، کیا تم نے بارش کو نہیں دیکھا اس پانی کو نہیں دیکھا جسے خدا ہانکتا ہوا ایک بستی کی طرف لے آتا ہے۔ان دونوں آیات کا کیا تعلق ہے؟ تعلق یہ ہے کہ دونوں جگہ مذہب کی بات ہو رہی ہے مذہب میں جب خدا تعالیٰ کسی کو بھیجتا ہے اپنا نمائندہ بنا کر تو مذہبی دنیا میں دو قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ایک ہلاکتوں کے پیغام ہوتے ہیں منکرین کے لئے اور ایک زندگی کے پیغام ہوتے ہیں ماننے والوں کے لئے تو قرآن کریم چونکہ اسی کے متعلق ذکر فرما رہا ہے کہ جب اللہ اپنے انبیاء بھیجتا ہے تو پھر ا ختیاریل جاتا ہے قوموں کو یا تو انہیں تسلیم کر لیں اور اپنے لئے زندگی کے سامان پیدا کریں یا ان کا انکار کر دیں اور ہلاک ہو جائیں۔چونکہ یہ اسی ضمن میں خدا تعالیٰ تمثیلات کے ذریعہ مختلف رنگ میں آیات کو پھیر پھیر کر انسان کو متنبہ اور متوجہ فرمانا چاہتا ہے اس لئے ماضی سے اچانک حال میں اور حال میں بھی بظاہر ایک بے تعلق قانونِ قدرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک مضمون کے نئے جہاں میں داخل ہو جاتا ہے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ مضمون کا کوئی نیا جہاں نہیں کھلا کوئی نیا دروازہ نہیں کھلا بلکہ وہی مضمون ہے جو جاری ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے قوموں کے لئے ہلاکت کا ذکر کر دیا اور بعد میں زندگی کا۔انکار کے بعد اگر ہلاک ہی ہو جانا ہے تو پھر زندہ کیسے ہوں گی اس میں حکمت کیا ہے؟ حکمت یہ ہے کہ جہاں تک ماضی کا تعلق ہے ماضی میں جو تو میں مرگئیں اور انکار کی صورت میں ہلاک ہوگئیں وہ تو اب زندہ نہیں ہو سکتیں لیکن اللہ تعالیٰ یہ فرمانا چاہتا ہے کہ یہ کوئی تقدیر مبرم نہیں ہے کہ تم ضرور ہلاک ہو جاؤ، کوئی ایسی لکھی ہوئی بات نہیں ہے جو ٹل نہیں سکتی ، انبیاء ہلاکت کی خاطر نہیں آیا کرتے ، انبیاء نئی زندگیاں بخشنے آیا کرتے ہیں۔جس طرح خدا تعالیٰ پانیوں کوگھیر کے لاتا ہے مردہ زمینوں کی طرف نبوت تو ایک انعام ہے وہ مردوں کو نئی زندگی بخشنے کے لئے تم پر کیا جاتا ہے۔اس لئے اس انعام سے منہ نہ موڑ و کیونکہ اگر تم منہ موڑو گے تو پیچھے دیکھو ماضی میں کیا ہو چکا ہے۔چنانچہ جو خوف تھا ہلاکت کا اس میں ایک امید کی روشنی نمودار ہوگئی ایک دروزاہ کھل گیا زندگی کا بھی اور جہاں تک حال کے لوگ مخاطب ہیں ان کو اسی طرف متوجہ فرماتا ہے کہ تم ماضی سے نصیحت تو پکڑ ولیکن تمہارے لئے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں تمہاری ہلاکت یقینی نہیں ہے کیونکہ نبوت تو زندگی بخشنے کے لئے آیا کرتی ہے تم