خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 38
خطبات طاہر جلدم 38 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۵ء اس سے وابستہ ہو جاؤ گے تو تم زندہ ہو جاؤ گے اور یہاں ایک اور بہت لطیف مضمون یہ بھی داخل فر ما دیا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ که جب خدا تعالیٰ کی طرف سے فضلوں اور رحمتوں کا پانی برستا ہے تو صرف انسان ہی فائدہ نہیں اٹھایا کرتے بلکہ جانور بھی فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔أُولبِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے منکرین کے لیڈروں کا ذکر کرتے ہوئے کہ وہ انعام کی طرح ہیں بَلْ هُمْ أَضَلُّ بلکہ اُن سے بھی بدتر ہیں ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔تو مذہبی محاورہ میں خصوصاً قرآنی محاورے میں انعام یعنی چوپائے کا لفظ ایسے انسانوں کے متعلق بھی بولا جاتا ہے جو سرزمین کی طرف رکھتے ہیں نظریں زمین کی طرف گاڑے رکھتے ہیں اور آسمان کی طرف نہیں دیکھ سکتے یعنی کلیۂ ہدایت سے عاری رہتے ہیں تو یہاں چونکہ روحانی ذکر چل رہا ہے اس لئے اس پر غور کرنا ہو گا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ جب ہم پانی لے کر آتے ہیں تو انسان بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور انعام بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہ مضمون کئی طرح سے غور کے نتیجہ میں انسان پر کھلتا چلا جاتا ہے۔اوّل یہ کہ جب خدا تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے تو صرف مومنوں کو فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ ایک ایسا ترشیح ہوتا ہے نور کا کہ کل عالم اس سے فائدہ اٹھا جاتا ہے۔صرف روحانی لوگ ہی نبوت سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ مادی دنیا میں بھی عظیم الشان انقلابات آجاتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نور نبوت کو نازل فرماتا ہے تو مؤمن تو غیر معمولی فوائد اٹھاتے ہیں دنیا کے بھی اور آخرت کے بھی ، لیکن علوم وفنون کا ایک نیا دور بھی ان کے آنے کے ساتھ شروع ہو جاتا ہے دنیا کی عقلیں روشن ہونی شروع ہو جاتی ہیں کیونکہ نور نبو تو ایک شخص پر اتر تاہے اور وہ قوم خصوصیت سے فائدہ اٹھاتی ہے جو اس کو مان جاتی ہے پنجس طرح ایک نور کی شعاع صرف اپنے رستے کو روشن نہیں کرتی بلکہ اس سے روشنی منعکس ہو کر ماحول کو بھی روشن کر دیا کرتی ہے اس طرح مادی دنیا میں بھی ایک روشنی کا دور شروع ہو جاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ہر بڑی نبوت کے ساتھ جو خاص ایک اہمیت رکھتی ہو علوم وفنون کے نئے دور میں انسانیت داخل ہو جاتی ہے۔آنحضرت ﷺ جب تشریف لائے تو یہ آپ ہی کے نور کی بدولت تھا کہ ساری دنیا میں ایک علم کی روشنی پھیلی ہے اور براہ راست پہلے مسلمانوں کے ذریعہ پھیلی ہے اور یہ انہی کا فیض تھا جس نے یورپ