خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 369
خطبات طاہر جلد۴ 369 خطبه جمعه ۱۹ راپریل ۱۹۸۵ء بالا حوالہ سے بات کھل گئی ہے کہ اہل کتاب کو جو مسلمانوں سے نسبت ہے مولوی مودودی کے نزدیک بعینہ وہی نسبت باقی تمام مسلمانوں کو نام نہاد جماعت اسلامی سے ہے۔ اور اب جو میں حوالہ پیش کر رہا ہوں یہ بھی سیاسی کشمکش حصہ سوم کا ہے۔ دوا پس در حقیقت میں ایک نو مسلم ہوں ۔خوب جانچ کر اور پر کھ کر اس مسلک پر ایمان لایا ہوں جس کے متعلق میرے دل و دماغ نے گواہی دی کہ انسان کے لئے فلاح و اصلاح کا کوئی راستہ اس کے سوا نہیں ہے۔ پھر میں غیر مسلموں کو ہی نہیں خود مسلمانوں کو بھی اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔“ گویا مودودیت کے سوا تمام کے تمام مسلمان غیر مسلم ہیں ۔ صرف کا فر ہی نہیں ان کے حق میں غیر مسلم کا فتوی بھی صادر کر رہے ہیں۔ چنانچہ مفتی محمود صاحب نے جو فتوی دیا تھا اس کا جواب یہاں دیا جارہا ہے کہ تم بھی غیر مسلم ہو تم بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو تبھی تو وہ یہ کہتے ہیں کہ میں ان کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں میری طرف آجائیں وہ بھی نو مسلم بن جائیں اور اسلام قبول کریں پھر فرماتے ہیں : ایک قوم کے تمام افراد کو محض اس وجہ سے کہ وہ نسلاً مسلمان ہیں حقیقی معنوں میں مسلمان فرض کر لینا اور یہ امید رکھنا کہ ان کے اجتماع سے جو بھی کام ہوگا اسلامی اصول پر ہی ہوگا پہلی اور بنیادی غلطی ہے ۔“ 66 ( مسلمانوں کی سیاسی کشمکش حصہ سوم بارش کشمکش حصہ سوم با رششم صفحه ۱۰۵ صفحه ۱۰۶) پھر بیاہ شادی کے مسئلہ کے متعلق فتویی سنئے۔ یہ مودودی صا۔ ۔ یہ مودودی صاحب ہی ہیں جنہوں نے اس بارہ میں سب سے زیادہ شور ڈالا تھا کہ جماعت احمدیہ نے چونکہ اپنی بیٹیوں کو غیر احمدیوں سے بیاہنے کے خلاف فتوی صادر کر دیا ہے کہ غیر احمدیوں سے نہ بیاہی جائیں اس لئے ثابت ہو گیا کہ یہ خود امت مسلمہ سے نکل گئے ہیں جبکہ اپنا فتویٰ یہ ہے کہ تمام امت مسلمہ سوائے مودودی کے دائرہ اسلام سے خارج اور پکے غیر مسلم ہیں ۔ سارے مسلمان کہلانے والوں کو بھی اسلام کی دعوت دے رہے ہیں اور اس کا طبعی نتیجہ کیا نکلتا ہے وہی کہ ان سے بیاہ شادی حرام ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: یہ تو حقیقی دینی شعور پیدا ہو جانے کا لازمہ اور اس کا فطری نتیجہ دو