خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 368

خطبات طاہر جلدم 368 خطبه جمعه ۱۹ / اپریل ۱۹۸۵ء صاحب تھے اور جن کے خلاف مفتی محمود صاحب کا یہ فتویٰ ہے۔سوچیں تو سہی نقشہ کیا بن رہا ہے۔ہر طرف فساد اور ہر طرف ضلالت اور تضادات کا دور دورہ ہے۔زبان سے کچھ کہ رہے ہیں اور عمل سے کچھ کر رہے ہیں اور ہم سے شکوے ہیں اور ان شکوؤں میں سے ایک بڑا شکوہ یہ ہے کہ ظفر اللہ خان نے قائد اعظم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہیں دیکھتے کہ تم تو ایک دوسرے کے خلاف یہ فتوے دے رہے ہو کہ جو جنازہ پڑھے گا وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا اس کی بیوی اس پر حرام ہو جائے گی۔۔۔۔وہ قائد اعظم جس کو تم کا فراعظم کہتے تھے اور یہی صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہتے تھے کہ ایک فاحشہ کی خاطر اس نے اسلام کو چھوڑ دیا۔یہ سب کچھ کہنے کے نتیجہ میں تو وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتے اور پھر تمہارے فتویٰ کے مطابق کہ اس شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھنی چاہیے جو شیعہ ہے اور جو پڑھے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔پس کوئی تک نہیں کوئی دلیل نہیں کسی پہلو میں بھی کوئی یکسانیت نہیں ہر طرف تضاد اور بیہودہ سرائی ہے اس کے سوا ان کی مخالفت میں کوئی بھی حقیقت نہیں۔اب ایک مودودی صاحب رہ جاتے ہیں۔وہ بڑے معقول سمجھے جاتے ہیں اور ان باتوں میں بڑے متوازی اور تعلیم یافتہ مسلمان ہیں اور عمومی تاثر یہی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں میں بڑا نفوذ کیا ہے اور باقی سارے علماء کی نسبت زیادہ روشن خیال اور جدید تعلیمات کا علم رکھنے والے ہیں۔اگر پوری طرح روشن خیال نہیں تو کچھ نہ کچھ اثر قبول کئے ہوئے ہیں ان کا دوسروں کے ساتھ تعلقات رکھنے سے متعلق کیا فتویٰ ہے۔اس سلسلہ میں کچھ تو میں پہلے حوالہ جات پڑھ چکا ہوں۔مسلمانوں کے بارہ میں ان کا عمومی خیال کیا تھا وہ خود لکھتے ہیں : قرآن میں جن کو اہل کتاب کہا گیا ہے وہ آخر نسلی مسلمان ہی تو تھے خدا اور ملائکہ اور نبی اور کتاب اور آخرت سب کچھ مانتے تھے اور عبادات اور احکام کی رسمی پیروی بھی کرتے تھے البتہ اسلام کی اصلی روح یعنی بندگی اور اطاعت کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کر دینا اور دین میں شرک نہ کرنا یہ چیزان میں سے نکل گئی تھی۔( مسلمانوں کی سیاسی کشمکش حصہ سوم بارششم صفحه ۱۲۲) باقی مسلمان فرقوں کے مقابل پر جماعت اسلامی کی جو حیثیت ہے اس کے متعلق مندرجہ