خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 370 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 370

خطبات طاہر جلدم 370 خطبه جمعه ۱۹ / اپریل ۱۹۸۵ء ہے جس آدمی میں بھی یہ شعور پیدا ہو جائے گا وہ لازماً دین سے پھرے ہوئے اور اخلاقی طور پر گرے ہوئے لوگوں کو شادی بیاہ کے تعلق کے لئے تو درکنارہ دوستی و ہم نشینی کے لئے بھی پسند نہیں کرے گا۔“ روئیداد جماعت اسلامی حصہ سوم صفحه ۱۰۳) جماعت اسلامی کی مجلس شوری میں مسئلہ پیش تھا کہ وہ لوگ جو مودودی نہیں ان کے ساتھ شادی جائز ہے یا نہیں اس پر مودودی صاحب نے یہ فیصلہ دیا ہے۔سیدھی سادھی بات ہے تم لوگوں کی عقل میں نہیں آئی۔حیرت ہے تم نے یہ مسئلہ پیش کیوں کیا۔یہ ایک ادنی فہم کی بات ہے کہ بیاه شادی تو در کنار ان کے ساتھ تعلقات بھی نہیں رکھنے۔پس یہ ہے صورت حال کا خلاصہ جس کی رو سے جماعت احمد یہ پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ سارے جھوٹے اور حد سے زیادہ مبالغہ آمیز اور صورت حال کو بگاڑنے والے ہیں۔اگر وہ سارے الزامات سو فی صد درست ثابت ہوں اور ہمارا وہی عقیدہ ہو جو ہماری طرف منسوب کر رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں انہوں نے جو اقدام کیا ہے وہ درست ثابت ہو تو پھر سارے پاکستان میں تو کجا تمام دنیا میں ایک بھی مسلمان نہیں ملے گا کیونکہ اس چھری سے پھر سب کی گردنیں کاٹی جائیں گی۔مولوی نے ایک دوسرے کے خلاف تکفیر کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس کی زد سے کوئی سلامت نہیں رہے گا۔ہر ایک کو اس تلوار سے قتل کیا جائے گا اور نیست و نابود کیا جائے گا اسلام اور اسلام کے ہر فرقے پرز د پڑے گی کیونکہ ایسا ایک بھی فرقہ نہیں ہے جس کے خلاف جماعت احمدیہ کے مقابلہ میں زیادہ سنگین فتوے خود ان کے لگائے ہوئے موجود نہ ہوں۔پس دو ہی صورتیں ہیں یا تو یہ کہیں کہ وہ فتوے درست ہیں اور اس کے نتیجہ میں تعلقات کے یہ سارے رابطے کٹ جاتے ہیں اور اس وقت سارے عالم اسلام کا جو حال ہے اس کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں یا یہ کہیں کہ وہ فتوے جھوٹے ہیں تیسری تو کوئی صورت نہیں۔جس طرح ہمیں کہہ رہے ہیں کہ تمہارا فتویٰ جھوٹا ہے تو پھر جھوٹا فتوی دینے والوں پر بھی تو یہی فتویٰ لگتا ہے اس لئے کسی ایک فرقے کو بچا کر دکھا ئیں۔پس مخالفین احمدیت کے پاس