خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 363
خطبات طاہر جلدم 363 خطبه جمعه ۱۹ / اپریل ۱۹۸۵ء ان فتوؤں میں ایسی غلیظ اور گندی زبان استعمال کی گئی ہے اور پھر بھی کہتے ہیں ہم علمائے دین ہیں۔ان مولویوں نے مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑا۔یہ فتویٰ آگے چلتا ہے۔لکھا ہے:۔رافضی اپنے کسی قریب حتی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پا سکتا۔سنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی۔یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حق نہیں ( یہ سارا ان فتویٰ دینے والوں کی طرف لوٹا دینا چاہئے۔ناقل ) ان کے مرد عورت ، عالم، جاہل کسی سے میل جول، سلام کلام سخت کبیرہ اشد حرام۔جوان کے ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے با جماع تمام آئمہ دین کا فربے دین ہے۔اور اس کے لئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان کے لئے مذکور ہوئے۔مسلمان پر فرض ہے کہ اس فتویٰ کو بگوش ہوش سنیں اور اس پر عمل کر کے بچے پکے سنی بنیں۔(ایضاً) اور بھی اسی طرح کے بڑے بڑے خوفناک فتوے ہیں جن کو اس وقت میں چھوڑ رہا ہوں۔ایک دوسرے کے خلاف ایسے ایسے خوفناک اور گندے فتاویٰ کے انبار لگے ہوئے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔فتاویٰ دینے کے گویا کارخانے بنے ہوئے ہیں ، ہر کارخانے سے گندنکل رہا ہے، بایں ہمہ جماعت احمدیہ پر یہ الزام ہے کہ اس نے ہمیں کا فر کہہ دیا جبکہ جماعت کے فتویٰ کے اندر ایک دلیل ہے ایک بڑا بھاری استدلال قرآن کا موجود ہے پھر بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جارہا بلکہ یہ کہا جارہا ہے کہ تم بے شک اپنے آپ کو مسلمان سمجھو، مومن کہو کہتے چلے جاؤ اس پر ہمارا کوئی حق نہیں ، ہاں ایسا سمجھنے پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا فتوی ہے جماعت کا یہ موقف تو نا قابل برداشت ہے اس سے گویا سارے تعلقات منقطع ہو گئے اس لئے کہا گیا کہ اسے دائرہ اسلام سے خارج کرو، ان کی مسجد میں جلا دو، گنبد تو ڑ دو، اگر مسجد میں نہیں جلانی تو کم سے کم رخ ہی بدل دو اور آخری بات یہ کہ یہ مرتد ہو گئے اس لئے اگر چہ پاکستانی حکومت واقعہ اسلامی حکومت ہے تو فتوی اب یہ ہے کہ ان کا قتل عام کرو کوئی بھی ان میں سے بیچ کر باہر نہ جائے۔مگر یہ جو ایک دوسرے کے خلاف گندی زبانیں استعمال کی گئی ہیں ان کو سن ہی نہیں رہے یہ گندے فتوے ان کو نظر ہی نہیں آرہے۔