خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 364
خطبات طاہر جلدم 364 خطبه جمعه ۱۹ ر اپریل ۱۹۸۵ء اب یہ کہیں گے کہ شاید شیعوں نے نسبتاً زیادہ نرمی کا سلوک کیا ہوگا اس لئے شیعوں کا بھی فتویٰ دیکھ لیتے ہیں کہ وہ سنیوں کے متعلق کیا سمجھتے ہیں۔لکھا ہے: فرقہ حقہ شیعہ کے نزدیک شیعہ عورت کا نکاح کسی غیر شیعہ اثناعشریہ کے ہمراہ اس لئے ناجائز ہے کہ غیر اثناعشری کو وہ مومن نہیں سمجھتے۔جو مسلمان کہ غیر اثناعشری عقیدہ رکھتا ہوشیعوں کے نزدیک وہ مومن نہیں مسلمان ہے۔“ یہاں انہوں نے ایک معقول بات کی ہے جس کے لئے واقعی ان کو داد دینی پڑتی ہے۔اب سمجھ آئی کہ یہ اپنے آپ کو مومن کیوں کہتے ہیں انہوں نے مسئلہ کی بناء قرآن پر رکھی ہے اور اس بارہ میں کم سے کم دوسرے سنی علماء کی نسبت زیادہ عقل اور حکمت سے کام لیا ہے۔کہتے ہیں قرآن سے جائز ہے تم کسی کو مومن نہ سمجھو لیکن وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو بے شک کہنے دو اور یہ بڑی معقول بات ہے مومن نہیں ہے مگر مسلمان ہے لیکن اس کے باوجود اگر کسی غیر شیعہ کے ساتھ نکاح ہو جائے تو کیا فتویٰ ہے۔علامہ الحائری شیعوں کے بہت بڑے عالم تھے ان کے صاحبزادہ کہتے ہیں: ”ایسی صورت میں باوجود عالم مسئلہ ہونے کے اگر ایسا نکاح واقعہ ہو جائے تو وہ نکاح باطل ہے ان کی اولا د بھی شرعاً ولد الزنا ہوگی۔“ (مسئلہ نکاح شیعہ سنی کا مدل فیصلہ موسوم به «انظر مولہ سیدمحمد رضی الرضوی اتمی ابن علامہ الحائری صفحه ۲) ایک اور فتویٰ سنئے لکھا ہے: ”جو لوگ آئمہ معصومین کے حق میں شک رکھتے ہیں ان کی لڑکیوں سے تو شادی کر لومگر ان کولڑ کی مت دو۔کیونکہ عورت اپنے شوہر کے ادب کو لیتی ہے اور شوہر قہر اور جبر عورت کو اپنے دین اور مذہب پر لے آتا ہے۔“ (ایضاً صفحه ۱۶) ان دونوں فتاویٰ میں زبان نسبتاً زیادہ شریفانہ ہے اور معقولیت کا رنگ بھی نسبتاً زیادہ ہے یعنی یوں نہیں معلوم ہوتا کہ کوئی گندی گالیاں دے رہا ہے ان کے فتویٰ میں کوئی نہ کوئی دلیل تو بہر حال پیش کی گئی ہے مگر جماعت احمدیہ کی طرف سے ایسا کوئی فتویٰ نہیں دیا گیا جس میں اشارہ یا کنایہ بھی ایسی شادی کو حرام قرار دیا گیا ہو اور خاوند اور بیوی کے ایسے تعلقات کو اس حد تک ناجائز قرار نہیں