خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 362
خطبات طاہر جلدم 362 خطبه جمعه ۱۹ ر اپریل ۱۹۸۵ء سے لوٹ کر قبر میں ان کے واسطے عذاب اور بوقت خاتمہ ان کے موجب خروج ایمان وازالہ تصدیق وایقان ہوں گی کہ ملائکہ حضور علیہ السلام سے کہیں گے انک لا تدرى ما احد ثوابعدک اور رسول مقبول علیہ السلام دجال بریلوی اور ان اتباع کو سحقاً سحقاً فرما کر حوض مور و دو شفاعت محمود سے کتوں سے برتر کر کے دھتکار دیں گے اور امت مرحومہ کے اجر و ثواب و منازل ونعم سے محروم کئے جائیں گے۔“ ( رجوم المذنبين على رؤوس الشياطين المشهور به الشهاب الثاقب على المستر ق الکاذب صفحہ ۱۱۹ ۱۲۰ مولفه مولوی سید حسین احمد صاحب مدنی) اب یہ تو پاکستان کے ان دو بڑے بڑے فرقوں کی بات ہوئی ہے جو ملک کی بڑی بھاری اکثریت بناتے ہیں ، یہ ان کے آپس کے فتوے ہیں۔پاکستان کی حکومت کا موقف اگر دیانت داری پر مبنی ہے تو ان کے ساتھ اس سے کئی گنا زیادہ سخت سلوک ہونا چاہئے جو جماعت احمدیہ سے روا رکھا جا رہا ہے۔لکھا ہے: ہے شیعہ حضرات تو ان کے بارہ میں بھی فتوکی سن لیجئے ! لکھا ہے: رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے۔“ ایسا لفظ ان کو پسند آیا ہے کہ بار بار اس بے ہودہ لفظ کو استعمال کر رہے ہیں۔پھر آگے معاذ اللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الہی ہے۔اگر مردسنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو جب بھی نکاح ہرگز نہ ہوگا محض زنا ہوگا اولا د ولد الزنا ہوگی۔باپ کا ترکہ نہ پائے گی اگر چہ اولا د بھی سنی ہی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں۔عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لئے مہر نہیں۔اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی کا فتوی ردا لرفضه صفحه ۳۰-۳۱)