خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 355 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 355

خطبات طاہر جلد۴ 355 خطبه جمعه ۱۹ اپریل ۱۹۸۵ء صلى الله ہمارے نبی کریم ﷺ کی پیشگوئی کے تیں دجالوں میں سے ایک ہے۔ اور جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر و مرتد ہے اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت حرام ہوتی ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو وطی کرے گا سو وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد پیدا ہوتی ہے وہ ولد الزنا ہوتی ہے اور مرتد بغیر توبہ کے مر گیا تو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھنا اور اس کو مقابر اہل اسلام میں دفن نہیں کرنا۔ بلکہ بغیر غسل و کفن کے کتے کی مانند گڑھے میں ڈال دینا ۔ 66 ( فتوی در تکفیر منکر عروج جسمی و نزول حضرت عیسی علیہ السلام صفحہ ۶۶ - ۶۷) دیکھیں یہ ہے زبان مولویوں کے فتوؤں کی اور یہ تو ابھی صرف چند نمونے ہیں ورنہ ایسے بے شمار فتوے لکھ کر ملک میں پھیلائے گئے اور پھر واقعہ ان فتووں پر عمل بھی کیا گیا کیونکہ یہ ایسے فتاوی نہیں تھے صرف جو مولویوں کی کتابوں کی زینت بن کر رہ گئے ہوں بلکہ ان کی ملک گیر تشہیر کی گئی ، عوام الناس کے ذریعہ ان فتاوی پر عمل بھی کروایا گیا۔ چنانچہ جماعت احمد یہ کے خلاف عوام اس حد تک مشتعل ہو گئے کہ بقول مولوی عبدالاحد خانپوری: ” جب طائفہ مرزائیہ امرتسر میں بہت ذلیل وخوار ہوئے ، جمعہ و جماعت سے نکالے گئے اور جس مسجد میں جمع ہو کر نمازیں پڑھتے تھے اس میں سے بے جو عزتی کے ساتھ بدر کئے گئے اور جہاں قیصری باغ میں نماز جمعہ پڑھتے تھے وہاں سے حکماً رو کے گئے تو نہایت تنگ ہو کر مرزا قادیانی سے اجازت مانگی کہ 66 مسجد نئی تیار کریں ۔“ (اظہار مخادعت مسیلمہ قادیانی) یہ وہ حالات ہیں جو علیحدگی پر منتج ہوئے ۔ آج مولوی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ جماعت احمد یہ نے کفر کے فتوی میں پہل کی اور پھر علیحدہ ہونے شروع ہو گئے اور یہ ساری باتیں عوام الناس یعنی مسلمانوں سے چھپا رہے ہیں یہ ان کا کردار ہے ، یہ ان کی تاریخ ہے جو بتارہی ہے کہ کس طرح جماعت احمد یہ کو علیحدہ ہونے پر مجبور کیا گیا اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فتوی دیا اس کو دیکھئے اور ان لوگوں کے فتاوی کی زبان دیکھئے آخر کسی بات کی حد بھی ہوتی ہے، انسان