خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 356
خطبات طاہر جلد۴ 356 خطبه جمعه ۱۹ ر اپریل ۱۹۸۵ء کے اندر شرافت کی کوئی تو رمق باقی رہنی چاہئے مگر مولویوں کے فتوؤں میں اتنا جھوٹ ہے ، اس قسم کا کذب ہے اور اس طرح کا افتراء ہے کہ انسانی روح کانپ اٹھتی ہے۔عوام الناس کو جماعت احمد یہ کےخلاف جھوٹ بول بول کر مشتعل کیا جا رہا ہے اور اشتعال کی اصل باتیں لوگوں سے چھپائی جارہی ہیں۔اب دیکھئے اس فتویٰ میں یہ بتایا گیا ہے کہ احمدی جس جگہ نمازیں پڑھتے تھے وہاں سے حکمار کوائے گئے تو پھر تنگ آکر مسجد بنانے کی اجازت مانگی اور اب کہتے ہیں کہ تم مسجد میں کیوں بناتے ہو۔تو خیر آگے سنئے : تب مرزا نے ان کو کہا کہ صبر کرو میں لوگوں سے صلح کرتا ہوں۔اگر صلح ہوگئی تو مسجد بنانے کی کچھ حاجت نہیں۔“ حد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوصلے اور صبر کی۔ان حالات میں بھی فرماتے ہیں کہ میں اب بھی صلح کی کوشش کرتا ہوں اگر صلح ہوگئی تو مسجد بنانے کی ضرورت نہیں۔پھر آگے سنئے: ”اور نیز اور بہت قسم کی ذلتیں اٹھائیں۔معاملہ و برتاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا۔عورتیں منکوحہ ومخطو بہ بوجہ مرزائیت کے چھینی گئیں۔مردے ان کے بے تجہیز وتکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے وغیرہ وغیرہ تو قادیانی نے یہ اشتہار مصالحت کا دیا۔“ (اظہار مخادعت مسلمہ قادیانی) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لیکچر لدھیانہ میں جب جوابی فتویٰ صادر فرمایا تو دیکھئے وہ کس طرح قرآن کی حدود کے اندر اور ان تمام احتیاطوں کے ساتھ صادر کیا گیا جن کا قرآن کریم کی تعلیم تقاضا کرتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: اس وقت مسلمان اسلمنا میں تو بے شک داخل ہیں مگر اما کی ذیل میں نہیں۔(لیکچرلدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۲۹۵) اور جب یہ فرمایا اس کے تمام مضمرات بیان فرما دیئے گویا پورا دریا ایک کوزے میں بند فرما دیا ہے یعنی احمدیوں کو مسلمانوں کے معاملات میں اس سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔جس حد تک حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ان لوگوں کے معاملہ میں گئے جن کے متعلق خدا نے خبر