خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 354

خطبات طاہر جلدم 354 خطبه جمعه ۱۹ ر اپریل ۱۹۸۵ء یہ گمراہ کرنے والا چھپا مرتد ہے بلکہ وہ اپنے شیطان سے زیادہ گمراہ ہے جو اس سے کھیل رہا ہے۔اگر یہ شخص اس اعتقاد پر مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ یہ مسلمانوں کی قبروں میں دفن کیا جائے تاکہ وہ اہل قبور اس سے ایذا نہ پاویں۔“ (اشاعۃ السنتہ جلد ۱۳ نمبر صفحہ ۲۰۱) اسی طرح میاں نذیر حسین دہلوی جو شیخ الکل کہلاتے ہیں انہوں نے اپنے فتویٰ میں لکھا: اہل سنت سے خارج۔اس کا عملی طریق ملحدین باطنیہ وغیرہ اہل ضال کا طریق ہے ،اس کے دعوے واشاعت اکاذیب اور اس ملحدانہ طریق سے اس کو میں دجالوں میں سے جن کی خبر حدیث میں وارد ہے ایک دجال کہہ سکتے ہیں۔اس کے پیرو ہم مشرب ذریات دجال ، خدا پر افتراء باندھنے والا ، اس کی تاویلات الحادو تحریف ، کذب و تدلیس سے کام لینے والا ، دجال ، بے علم ، نافہم ،اہل بدعت وضلالت۔جو کچھ ہم نے سوال سائل کے جواب میں کہا اور قادیانی کے حق میں فتوی دیاوہ صحیح ہے۔۔اب مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے دجال کذاب سے احتراز کریں اور اس سے وہ دینی معاملات نہ کریں جو اہل اسلام میں باہم ہونے چاہئیں۔نہ اس کی محبت اختیار کریں۔اور نہ اس کو ابتداء سلام کریں اور نہ اس کو دعوت مسنون میں بلاویں اور نہ اس کی دعوت قبول کریں اور نہ اس کے پیچھے 66 اقتدا کریں اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں۔“ اشاعۃ السنة النبوية - جلد ۱۳ نمبر ۶ - ۱۸۹۰ء صفحه ۱۸۵،۱۴۱،۱۴۰) الصلوة اسی طرح ۱۸۹۳ء ہی میں قاضی عبید اللہ صاحب مدراسی نے حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام کے خلاف ایک فتویٰ دیا جس کی بنیاد اس بات پر رکھی کہ جو شخص بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانے اور جسمانی نزول کا قائل نہ ہو وہ کافر ہے۔چنانچہ قاضی صاحب نے لکھا: وو وہ شرع شریف کی رو سے مرتد، زندیق و کافر ہے اور مصداق