خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 337

خطبات طاہر جلد۴ 337 خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۸۵ء ان کے چوٹی کے اردو دانوں سے دریافت کرتے ہیں جن کی تحریریں سارے ہندوستان میں مشہور اور مرغوب ہوئیں کہ جب تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریریں پڑھا کرتے تھے تو تم پر کیا اثر ہوتا تھا۔ مولانا ابوال ابوالکلام آزاد مدیر وکیل امرتسر کے چوٹی کے لکھنے والے۔ نے والے تھے ، صاحب حب قلم انشاء پرداز اور ان کی بہت عمدہ تحریر تھی ان کی تحریر سے ہی آپ اندازہ لگا لیں گے کہ ان کی اردو دانی کا معیار کتنا بلند تھا۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کو کس نظر سے دیکھا وہ سننے کے لائق ہے مولانا موصوف نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر لکھا:۔ وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو ۔ وہ شخص دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی آواز حشر تھی جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے جس کی نظر فتنہ اور دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں ۔ وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا جو شور قیامت ہو کر خفتگان ہستی کو بیدار کرتا رہا۔ وو لیکن ان بد قسمتوں کو بیدار نہیں کر سکا۔ پھر لکھتے ہے یہ تلخ موت یہ زہر کا پیالہ موت جس نے مرنے والے کی ہستی نہ خاک پنہاں کردی۔ ہزاروں لاکھوں زبانوں پر تلخ کامیاں بن کر رہے گی اور قضا کے حملے نے ایک جیتی جاگتی جان کے ساتھ جن آرزوؤں اور تمناؤں کا قتل عام کیا ہے صدائے ماتم مدتوں تک اس کی یاد گار تازہ رکھے گی ۔ 66 1 ( بعض حضرات نے اس شذرہ کو مولانا عبداللہ العمادی کی طرف منسوب کیا ہے۔ جو صحیح نہیں کیونکہ اس کا پر شوکت انداز تحریر بتا رہا ہےکہ یہ مولانا ابوالکلام آزاد کے قلم سے نکلا ہے ۔ اس کی ۔ ا تصدیق مولانا آزاد کی خود نوشت ” آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی، مطبوعہ ۱۹۵۸ء دہلی سے بھی ہو جاتی ہے۔ اس کتاب کے صفحہ ۳۱۷ - ۳۱۸ پر مولانا نے لکھا ہے کہ اخبار کے لیڈنگ آرٹیکل سے لے کر جز وی مواد تک سب کا سب تنہا وہ خود ہی مرتب فرمایا کرتے تھے۔ مولانا عبد اللہ العمادی لکھنو میں رسالہ البیان کے مدیر تھے۔)