خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 338
خطبات طاہر جلد۴ پھر فرماتے ہیں: 338 خطبه جمعه ۱۲ رامیریل ۱۹۸۵ء ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہوا ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عام پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو دنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔مرزا صاحب کی اس رحلت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو، ان تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا۔“ 66 دیکھا آپ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کیسی ” پھپھی تحریریں تھیں کہ نعوذبالله من ذلک نہ کوئی مزہ نہ کوئی لذت اور نہ کوئی دلیل ان کی تحریروں میں ملتی ہے پھر لکھتے ہیں : ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے۔“ مخالفین کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کی تحریروں میں جان ہی کوئی نہیں اور انہوں نے سوائے مخالفوں کی موت کی پیشگوئیوں کے لکھا ہی کچھ نہیں لیکن مولانا ابوالکلام آزاد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے متعلق مزید لکھتے ہیں کہ : ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے تا کہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پامال بنائے رکھا آئندہ بھی جاری رہے۔“ اے لکھنے والے خدا تیری زبان مبارک کرے۔یہ تحریک آج بھی جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔پھر لکھتے ہیں : ”مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا