خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 297

خطبات طاہر جلدم 297 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء لیٹے ہوئے ہیں میں اوپر کیسے سوسکتا ہوں مسکرا کر فرمایا آپ بے تکلفی سے لیٹے رہیں میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔بچے شور کرتے تھے تو میں انہیں روکتا تھا تا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آئے۔( سیرۃ حضرت مسیح موعود مصنفہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب صفحہ نمبر ۳۶) یہ ہے اسلام کے لئے عظیم الشان خطرہ ایسے ایسے نیک لوگ ہوں گے تو ان مولویوں کا اسلام کہاں باقی رہے گا۔یہ ہے اصل خطرہ جو عوام سے چھپارہے ہیں۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب گواہی دیتے ہیں کہ ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر فرمایا: ”جب میرا کیسہ خالی ہوتا ہے تو جو ذوق اور سرور اللہ تعالیٰ پر توکل کا مجھے اس وقت حاصل ہوتا ہے میں اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا اور وہ حالت بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ کیسہ بھرا ہوا ہو۔(ملفوظات جلد اصفحہ ۲۱۶) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جو کچھ آتا تھا وہ اسی رفتار سے اللہ کی راہ میں واپس چلا جاتا تھا وہ کلیۂ خدمت دین پر خرچ ہورہا تھا اور جب بھی آپ کی جیب خالی ہوتی تھی تو آپ اس غربت پر زیادہ لطف اٹھاتے تھے کیونکہ آپ کو یقین کامل تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے کام ضرور پورے گا۔آپ پر ایسے وقت بھی آئے کہ بسا اوقات مہمان زیادہ آگئے اور خرچ کم ہو گیا تو حضرت اماں جان کے زیور بیچنے کی نوبت بھی آگئی لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر وقت پر مددفرمائی اور یہ سلسلہ جاری وساری رکھا۔یہ ہے وہ تعیش کی زندگی جس پر پاکستان کے اس سرکاری رسالے کو اعتراض ہے۔منشی ظفر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ: ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک قادیان کی اوپر کی چھت پر چند مہمانوں کے ساتھ کھانا کھانے کے انتظار میں تشریف فرما تھے۔