خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 296
خطبات طاہر جلدم 296 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء حضرت صاحب کا لحاف بچھونا بھی لے آئے۔وہ شرمندہ ہوا اور کہنے لگا جس کو دے چکا ہوں اس سے کس طرح واپس لوں۔پھر میں مفتی فضل الرحمان صاحب یا کسی اور سے ٹھیک یاد نہیں رہا لحاف بچھونا ما نگ کر اوپر لے گیا۔آپ نے فرمایا کسی اور مہمان کو دے دو مجھے تو اکثر نیند بھی نہیں آیا کرتی اور میرے اصرار پر بھی آپ نے نہ لیا اور فرمایا کسی مہمان کو دے دو پھر میں وہ واپس لے آیا“۔اصحاب احمد جلد چہارم روایات ظفر روایت نمبر ۷۶ صفحه ۱۸۰) وو ایک اور واقعہ سیرۃ المہدی حصہ سوم صفحہ ۱۲۲ ۱۲۳ پر اس طرح درج ہے کہ: مجھے ایک اور صاحب نے سنایا کہ میں اپنی جوانی کے زمانہ میں کبھی کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خادم کے طور پر حضور کے سفروں میں ساتھ چلا جایا کرتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سفروں میں ساتھ پیدل چلتے تھے یا کبھی میں زیادہ اصرار کرتا تو کچھ وقت کے لئے خود سوار ہو جاتے تھے اور باقی وقت مجھے سواری کے لئے فرماتے تھے اور جب ہم منزل پر پہنچتے تھے تو چونکہ وہ زمانہ سستا تھا حضور مجھے کھانے کے لئے چار آنے کے پیسے دیتے اور اپنی شاہانہ آن بان کیا تھی ؟ خود ایک آنے کی دال روٹی منگوا کر چنے بھنوا کر گزارہ کرتے تھے اور آپ کی خوراک بہت ہی کم تھی۔ایک اور مرید کی بات سن لیجئے۔لکھتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اہل خانہ لدھیانہ گئے ہوئے تھے۔میں حضور کو ملنے اندرون خانہ گیا کمرہ نیا نیا بنا تھا اور ٹھنڈا تھا۔میں ایک چارپائی پر ذرا لیٹ گیا اور مجھے نیند آ گئی۔حضرت اس وقت کچھ تصنیف فرماتے ہوئے ٹہل رہے تھے جب میں چونک کر جاگا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میری چارپائی کے پاس نیچے فرش پر لیٹے ہوئے تھے میں گھبرا کر ادب سے کھڑا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی محبت سے پوچھا۔مولوی صاحب! آپ کیوں اٹھ بیٹھے؟ میں نے عرض کیا حضور نیچے